اسلام کی کتب (تیسری کتاب) — Page 9
کے گواہ ہونے چاہئیں۔اور اگر مطلع صاف نہ ہو اور کسی ایک کو بھی چاند دکھائی نہ دے تو شعبان کے تیس (۳۰) دن پورے کرنے چاہئیں۔اسی طرح عید کے چاند کے لئے اگر مطلع صاف ہو تو بہت سے لوگوں کی گواہی اور اگر غبار آلود ہو تو دو آدمیوں کی گواہی چاہیئے ور نہ رمضان کے تیس دن پورے کئے جائیں۔[۳] حائضہ روزے نہ رکھتے۔رمضان کے بعد اُن کی قضاء کرے۔اگر کوئی شخص رمضان میں روزے نہ رکھ سکے تو سال بھر میں جب موقعہ ملے روزے رکھ لے۔خواہ ایک ایک کر کے یا اکٹھے ہی۔حاملہ اور مرضعہ اگر رمضان میں روزے نہ رکھ سکیں تو کسی دوسرے موقعہ پر روزے رکھیں۔اگر کسی دوسرے موقعہ پر بھی نہ رکھ سکتی ہوں تو فدیہ (فی روزہ ایک مسکین کا کھانا ) ادا کریں۔اسی طرح دائم المریض اور پیر فرتوت بھی فدیہ فی روزہ ایک مسکین کا کھانا ) ادا کریں۔تھ سفر کا اندازہ خود دل سے پوچھنا چاہیئے۔جسے سفر کہا جا سکے وہی سفر ہے۔خواہ چند میل ہی کیوں نہ ہو۔( ریل گاڑی وغیرہ کا سفر بھی سفر ہی ہے ) اگر غلطی سے روزہ دار سمجھ لے کہ سورج غروب ہو گیا ہے اور روزہ افطار کرلے۔حالانکہ سُورج غروب نہ ہوا ہو تو وہ اس روزہ کی قضاء کرے۔کفارہ لازم نہیں آئیگا۔اگر غلطی سے یہ معلوم ہو کہ سحری کھانے کا ابھی وقت ہے۔اور سحری کھا [9]