اسلام کی کتب (تیسری کتاب) — Page 7
مسکینوں کو کھانا کھلائے۔یا کپڑے پہنائے۔یا غلام آزاد کرے۔اگر ان کی طاقت نہ ہو تو وہ تین دن کے روزے رکھے۔اگر کوئی شخص رمضان کا روزہ عمد اتوڑ دے۔یار کسی مومن کو غلطی سے قتل کر دے۔اور دیت دینے کی طاقت نہ رکھتا ہو۔یا اپنی بیوی سے ظہار کرے ( أَنْتِ عَلَى كَظهر أنى أو اخیی یعنی تو میری ماں بہن کی طرح ہے ) تو اُس پر لازم ہے کہ وہ ایک غلام آزاد کرے۔یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے اگر ان کی طاقت نہ ہو تو دو ماہ کے متواتر روزے رکھتے۔اگر ایک روزہ بھی چھوٹ جائے گا تو پھر دو ماہ کے متواتر روزے رکھنے ہوں گے۔اگر کوئی شخص حج اور عمرہ کرے۔اور قربانی نہ کر سکے تو وہ دس روزے رکھتے۔تین مکہ معظمہ میں اور سات جب اپنے گھر میں آئے۔اسی طرح جس شخص نے احرام باندھا ہوا ہو۔لیکن کسی تکلیف کی وجہ سے احرام کی حالت میں سر منڈوائے ( کیونکہ منع ہے ) تو اس کے کفارہ میں تین روزے رکھے۔[7]