اسلام اور آزادیء ضمیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 25 of 102

اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 25

غیر مسلموں کے ساتھ حسن سلوک کے متعلق اسلام کی خوبصورت تعلیم آزادی ضمیر و آزادی مذہب کے بارہ میں اسلام کی خوبصورت تعلیم کیا ہے۔اس بارہ میں حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں۔" قرآن کریم میں متعدد جگہ اسلام کی اس خوبصورت تعلیم کا ذکر ملتا ہے جس میں غیر مسلموں سے حسنِ سلوک، ان کے حقوق کا خیال رکھنا ، ان سے انصاف کرنا، ان کے دین پر کسی قسم کا جبر نہ کرنا، دین کے بارہ میں کوئی سختی نہ کرنا وغیرہ کے بہت سے احکامات اپنوں کے علاوہ غیر مسلموں کے لئے ہیں۔ہاں بعض حالات میں جنگوں کی بھی اجازت ہے لیکن وہ اس صورت میں جب دشمن پہل کرے، معاہدوں کو توڑے، انصاف کا خون کرے ظلم کی انتہا کرے یا ظلم کرے لیکن اس میں بھی کسی ملک کے کسی گروہ یا جماعت کا حق نہیں ہے، بلکہ یہ حکومت کا کام ہے کہ فیصلہ کرے کہ کیا کرنا ہے، کس طرح اس ظلم کو ختم کرنا ہے نہ کہ ہر کوئی جہادی تنظیم اٹھے اور یہ کام کرنا شروع کر دے۔کفار مکہ اور دشمنان اسلام کی زیادتیوں اور ظلم کے بالمقابل آنحضور ﷺ کا عظیم الشان اسوہ حسنہ آنحضرت لے کے زمانہ میں بھی جنگوں کے مخصوص حالات پیدا کئے گئے تھے جن سے مجبور ہو کر مسلمانوں کو جوابی جنگیں لڑنی پڑیں۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ آج کل کی جہادی تنظیموں نے بغیر جائز وجوہات کے اور جائز اختیارات کے اپنے جنگجویانہ نعروں اور عمل سے غیر مذہب والوں کو یہ موقع دیا ہے اور ان میں اتنی جرات پیدا ہوگئی ہے کہ انہوں نے نہایت ڈھٹائی اور بے شرمی سے آنحضرت ﷺ کی پاک ذات پر بیہودہ حملے کئے ہیں اور کرتے رہے ہیں جبکہ اس سراپا رحم اور 25