مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 60 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 60

نزول گاہ ہے دمشق سے مشرق کی طرف آباد کیا اور دمشق کو اُس سے مغرب کی طرف رکھا۔بڑا دھوکا ہمارے مخالفوں کو یہ لگا ہے کہ انہوں نے حدیث کے لفظوں میں یہ دیکھ کر کہ مسیح موعود اس منارہ کے قریب نازل ہوگا جو دمشق کی شرقی طرف ہے یہ سمجھ لیا کہ وہ منارہ دمشق میں ہی واقع ہے حالانکہ دمشق میں ایسے منارہ کا وجود نہیں اور یہ خیال نہیں کیاکہ اگر کہا جائے کہ اگر مثلاً فلاں جگہ فلاں شہر کے شرقی طرف ہے تو کیا ہمیشہ اس سے یہ مراد ہوا کرتا ہے کہ وہ جگہ اس شہر سے پیوستہ ہے؟ اور اگر حدیث میں ایسے لفظ بھی ہوتے جن سے قطعی طور پر یہی سمجھا جاتا کہ وہ منارہ دمشق کے ساتھ پیوستہ ہے اور دوسرے احتمال کی راہ نہ ہوتی تا ہم ایسا بیان دوسرے قرائن کے مقابل پر قابل قبول نہ ہوتا۔مگر اب چونکہ حدیث پر غور کرنے سے صاف طور پر سمجھ آتا ہے کہ اس حدیث کا صرف یہ منشا ہے کہ وہ منارہ دمشق کی شرقی طرف ہے نہ درحقیقت اُس شہر کا ایک حصہ تو دیانت سے بعید اور عقلمندی سے دُور ہے کہ خدا تعالیٰ کی اُن حکمتوںاور بھیدوں کو نظر انداز کر کے جن کو ہم نے اس اشتہار میں بیان کر دیا ہے بیو جہ اس بات پرزور ڈالا جائے کہ وہ منارہ جس کے قریب مسیح کا نزول ہے وہ دمشق میں واقع ہے بلکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس منارہ سے اُس مسجد اقصٰی کا منارہ مُراد لیا ہے جو دمشق سے شرقی طرف واقع ہے یعنی مسیح موعود کی مسجد جو حال میں وسیع کی گئی ہے اور عمارت بھی زیادہ کی گئی اور یہ مسجد فی الحقیقت دمشق سے شرقی طرف واقع ہے۔اور یہ مسجد صرف اس غرض سے وسیع کی گئی اور بنائی گئی ہے کہ تا دمشقی مفاسد کی اصلاح کرے۔اور یہ منارہ وہ منارہ ہے جس کی ضرورت احادیثِ نبویہ میں تسلیم کی گئی۔اور اس منارۃ المسیح کا خرچ دس ہزار روپیہ سے کم نہیں ہے۔اب جو دوست اس منارہ کی تعمیر کے لئے مدد کریں گے مَیں یقینا سمجھتا ہوں کہ وہ ایک بھاری خدمت کو انجام دیں گے۔اور مَیں یقینا جانتا ہوں کہ ایسے موقع پر خرچ کرنا ہرگز ہرگز ان کے نقصان کا باعث نہیں ہوگا۔وہ خدا کو قرض دیں گے اور مع سود واپس لیں گے۔کاش ان کے دل سمجھیں کہ اس کام کی خدا کے نزدیک کس قدر عظمت ہے۔جس خدا نے منارہ کا حکم دیا ہے اُس نے اِس بات کی طرف اشارہ کر دیا ہے کہ اسلام کی مُردہ حالت