مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 37 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 37

چوبیس برس گزر گئے۔اور آیندہ معلوم نہیں کہ ابھی کس قدر ہیں۔اگر پیش کر سکتے ہو تو تمہیں خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ ایسے مفتری کانام لو اور اس شخص کی مدّت کا جس قدر زمانہ ہو اس کا میرے زمانہ بعث کی طرح تحریری ثبوت دو اور لعنت ہے اس شخص پر جو مجھے جھوٹا جانتا ہے اور پھر یہ نظیر مع ثبوت پیش نہ کرے۔  ۱؎ اور ساتھ اس کے یہ بھی بتلائو کہ کیا تم کسی ایسے مفتری کو بطور نظیر پیش کر سکتے ہو جس کے کھلے کھلے نشان تحریر اور ہزاروں شہادتوں کے ذریعہ سے میری طرح بپایۂ ثبوت پہنچ گئے ہوں۔اے لوگو تم پر افسوس تم نے اپنے ایمانوں کو ایسے نازک وقت میں ضائع کیا جیسا کہ ایک نادان ایسے لق و دق بیابان میں پانی کو ضائع کر دے جس میں ایک قطرہ پانی کا میسر نہیںآ سکتا۔خدا نے عین صدی کے سر پر عین ضرورت کے وقت میں تمہارے لئے مجدد بھیجا اور صدی بھی چودھویں صدی جو اسلام کے ہلال کو بدر کرنے کے لئے مقرر کی گئی تھی جس کی تم اور تمہارے باپ دادے انتظار کرتے تھے اور جس کی نسبت اہل کشف کے کشفوں کا ڈھیر لگ گیا تھا اور دوسری طرف مجدد کے ظہور کے لئے ضرورتیں وہ پیش آئی تھیں جو کبھی نبوت کے زمانہ کے بعد پیش نہ آئیں مگر آپ لوگوں نے پھر بھی قبول نہ کیا۔اس مہدی کے وقت میں جس کا دوسرا نام مسیح موعود ہے خسوف کسوف بھی رمضان میں ہوا جو قریباً گیارہ سو برس سے تمہاری حدیث کی کتابوں میں لکھا ہوا موجود تھا مگر آپ لوگوںنے پھر بھی نہ سمجھا۔چودھویں صدی میں سے سترہ برس گزر بھی گئے مگر پھر بھی آپ لوگوںکے دلوں میں کچھ سوچ پیدا نہ ہوئی۔یہ ضرورتیں اور صدی خالی گئی۔کیا تم کوئی بھی سوچنے والا نہیں؟ مَیں نے بار بار کہا کہ مَیں خدا کی طرف سے ہوں۔مَیں نے بلند آواز سے ہر ایک کو پکار ا جیسا کہ کوئی پہاڑ پر چڑھ کر نعرے مارتا ہے۔خدا نے مجھے کہا کہ اُٹھ اور ان لوگوں کو کہہ دے کہ میرے پاس خدا کی گواہی ہے پس کیا تم خدا کی گواہی کو رد کردو گے۔خدا کا کلام جو میرے پر نازل ہوا اس کے یہ الفاظ ہیں۔قُلْ عِنْدِیْ شَھَادَۃٌ مِّنَ اللّٰہ ۱؎ البقرۃ : ۲۵