مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 382 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 382

پھر چلے آتے ہیں یارو زلزلہ آنے کے دن زلزلہ کیا اِس جہاں سے کوچ کر جانے کے دن تم تو ہو آرام میں پر اپنا قِصّہ کیا کہیں پھرتے ہیں آنکھوں کے آگے سخت گھبرانے کے دن کیوں غضب بھڑکا خدا کا مجھ سے پوچھو غافلو! ہوگئے ہیں اِس کاموجب میرے جھٹلانے کے دن غیر کیا جانے کہ غیرت اُس کی کیا دکھلائے گی خود بتائے گا اُنہیں وہ یار بتلانے کے دن وہ چمک دِکھلائے گا اپنے نشاں کی پنج *بار یہ خُدا کا قول ہے سمجھوگے سمجھانے کے دن طالبو! تم کو مبارک ہو کہ اب نزدیک ہیں اُس مرے محبوب کے چہرہ کے دِکھلانے کے دن وہ گھڑی آتی ہے جب عیسیٰ پکاریں گے مجھے اب تو تھوڑے رہ گئے دجّال کہلانے کے دن اے مِرے پیارے یہی میری دعاہے روز و شب گود میں تیری ہوں ہم اُس خونِ دل کھانے کے دن کرمِ خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں فضل کا پانی پلا اُس آگ برسانے کے دن اے مِرے یارِ یگانہ اے میری جاں کی پناہ کر وہ دن اپنے کرم سے دیں کے پھیلانے کے دن پھر بہارِ دیں کو دکھلا اے مرے پیارے قدیر کب تلک دیکھیں گے ہم لوگوں کے بہکانے کے دن یہ نظم ہفتہ وار پیسہ اخبار لاہور مورخہ ۳۱؍ مارچ ۱۹۰۶ء کے جو ایک لاکھ کی تعداد میں شائع ہوا تھا کے صفحہ ۱۸ پرمع تصویر حضرت اقدسؑ شائع ہوئی تھی وہاں سے نقل کی گئی ہے۔(مرتب) ۲؎ خدا تعالیٰ کے اصل لفظ جو مجھ پر نازل ہوئے ہیں۔یہ ہیں ’’چمک دکھلائوںگا تم کو اس نشاں کی پنج بار‘‘ یعنی پنج مرتبہ غیر معمولی طور پر زلزلہ آئے گا جو اپنی شدت میں نظیر نہیں رکھتا ہو گا۔