مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 373
بدکاریوں اور ظلمتوں اور طرح طرح کے بُرے کاموں پر ایسی جرأت نہ کریں کہ گویا خدا نہیں ہے تو پھر ان پر کوئی عذاب نازل نہیں ہو گا جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ ۱؎ یعنی خدا تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا اگر تم شکر گزار بن جائو اور خدا پر ایمان لائو اور اس کی عظمت اور سزا کے دن سے ڈرو۔ایسا ہی اس کے مقابل پر فرماتا ہے۔ ۲؎ یعنی ان کو کہہ دے کہ اگر تم نیک چلن انسان نہ بن جائو اور اس کی یاد میں مشغول نہ رہو تو میرا خدا تمہاری زندگی کی پروا کیا رکھتا ہے۔اور سچ ہے جب انسان غافلانہ زندگی بسر کرے اور اس کے دل پر خدا کی عظمت کا کوئی رعب نہ ہو اوربے قیدی اور دلیری کے ساتھ اس کے تمام اعمال ہوں تو ایسے انسان سے ایک بکری بہترہے جس کا دودھ پیا جاتا ہے اور گوشت کھایا جاتا ہے اور کھال بھی بہت سے کاموں میں آ جاتی ہے اور مَیں جانتا ہوں کہ جس قدر مَیں نے لکھا ہے وہ اُن لوگوں کے لئے بس ہے جن کے دل ٹیڑھے نہیں ہیں اور جو جانتے ہیں کہ خدا ہے۔وَالسَّـلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی المشـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــتھر مرزا غلام احمد قادیانی ضیاء الاسلام پریس قادیان میں ۲۲؍ مئی ۱۹۰۵ء ۱۱؍ مئی ۱۹۰۵ء ۳؎ کو چھپ کر شائع ہوا۔(یہ اشتہار ۲۶×۸۲۰ کے چار صفحہ پر ہے ) (تبلیع رسالت جلد۱۰ صفحہ ۹۵ تا ۱۰۱) ۱؎ النسآء : ۱۴۸ ۲؎ الفرقان : ۷۸ ۳؎ اسی پیشگوئی کے متعلق جو زلزلہ ثانیہ کی نسبت شائع ہو چکی ہے آج ۲۲ ؍مئی ۱۹۰۵ء کو بوقت پانچ بجے صبح خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ وحی ہوئی صَدَّقْنَاالرُّؤْیَا اِنَّا کَذَالِکَ نَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ یعنی زلزلہ کی نسبت تیرے دیکھے ہوئے کو ہم نے سچا کر کے دکھلا دیا اور اسی طرح ہم صدقہ دینے والوں کو جزا دیتے ہیں۔منہ