مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 333
کے لئے وہ ہرگز تخلّف نہ کرے۔مگر کسی مجبوری سے جو قضاء و قدر سے واقع ہو۔اور جو صاحب ایسا نہ کر سکیں ان کے لئے بالضرورت یہ تجویز سوچی گئی ہے کہ جو کچھ وہ لنگر خانہ کے لئے بھیجتے ہیں اس کا چہارم حصہ براہ راست مدرسہ کے لئے نواب صاحب موصوف کے نام بھیج دیں۔لنگر خانہ میں شامل کر کے ہر گز نہ بھیجیں بلکہ علیحدہ منی آرڈر کرا کر بھیجیں۔اگرچہ لنگر خانہ کا فکر ہر روز مجھے کرنا پڑتا ہے اور اس کا غم براہ راست میری طرف آتا ہے اور میری اوقات کو مشوّش کرتا ہے۔لیکن یہ غم بھی مجھ سے دیکھا نہیں جاتا۔اس لئے مَیں لکھتا ہوں کہ اس سلسلہ کے جوانمرد لوگ جن سے مَیں ہر طرح امید رکھتا ہوں وہ میری التماس کو ردّی کی طرح نہ پھینک دیں اور پوری توجہ سے اس پر کاربند ہوں۔مَیں اپنے نفس سے کچھ نہیں کہتا بلکہ وہی کہتا ہوں جو خدا تعالیٰ میرے دل میں ڈالتا ہے۔مَیں نے خوب سوچا ہے اور بار بار مطالعہ کیا ہے۔میری دانست میں اگرچہ مدرسہ قادیان کا قائم رہ جائے تو بڑی برکات کا موجب ہو گا اور اس کے ذریعہ سے ایک فوج نئے تعلیم یافتوں کی ہماری طرف آ سکتی ہے۔اگرچہ مَیں یہ بھی جانتا ہوں کہ اکثر طالب علم نہ دین کے لئے بلکہ دُنیا کے لئے پڑھتے ہیں اور اُن کے والدین کے خیالات بھی اسی حد تک محدود ہوتے ہیں مگر پھر بھی ہر روز کی صحبت میںضرور اثر ہوتا ہے۔اگر بیس طالب علموں میں سے ایک بھی ایسا نکلے جس کی طبیعت دینی امور کی طرف راغب ہو جائے اور وہ ہمارے سلسلہ اور ہماری تعلیم پر عمل کرنا شروع کرے تب بھی مَیں خیال کروں گا ہم نے مدرسہ کی بنیاد سے اپنے مقصد کو پا لیا۔آخر میں یہ بھی یاد رہے کہ یہ مدرسہ ہمیشہ اس سقم اور ضعف کی حالت میں نہیں رہے گا بلکہ یقین ہے کہ پڑھنے والوں کی فیس سے بہت سی مدد مل جائے گی یا وہ کافی ہو جائے گی۔پس اُس وقت ضروری نہیں ہو گا کہ لنگرخانہ کی ضروری رقوم کاٹ کر مدرسہ کو دی جائیں سو اس وسعت کے حاصل ہونے کے وقت ہماری یہ ہدایت منسوخ ہو جائے گی اور لنگر خانہ جو وہ بھی درحقیقت ایک مدرسہ ہے اپنے چہارم حصّہ کی رقم کو پھر واپس پا لے گا۔اور یہ مشکل طریق جس میںلنگرخانہ کوحرج پہنچے گا محض اس لئے مَیں نے اختیار کیا کہ بظاہر مجھے معلوم ہوتا ہے کہ جس قدر مدد کی ضرورت ہے شاید جدید