مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 289 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 289

مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ برطانیہ کی محبت کی طرف ایک زبردست کشش سے کھینچ لے گا اور ان احسانوں کی فہرست میں جو اس گورنمنٹ نے مسلمانوںپر کئے ہیں اگر یہ احسان بھی کیا گیا جو عام طور پر جمعہ کی تعطیل دی جائے تو یہ ایسا احسان ہو گا کہ جو آبِ زَر سے لکھنے کے لائق ہو گا اور اس کا مسلمانوں کے دلوں پر بڑا اثر پڑے گا بالخصوص جبکہ عین تاجپوشی کے جلسہ میں جہاں ہزارہارئیس اور والیانِ ملک موجود ہوں گے اس احسان کو تاجپوشی کی ایک یادگار ٹھہرا کر سنایا جائے گا تو جو کچھ مسلمانوں کے دلوں میں خوشی سے بھری ہوئی محبت پیدا ہو گی اس کا کیا اندازہ ہو سکتا ہے۔اس دن لوگ تمام شہر میں خوشی کے نعروں کے ساتھ لارڈکرزن کے گیت گائیں گے اور اس کے حق میں دعائیں کریں گے اور اس کارروائی سے اسلام اور عیسائیت میں ایک میلان پیدا ہو جائے گا اور تمام تعریف لارڈ کرزن کے عہد کی طرف ہمیشہ کے لئے منسوب رہے گی اور میری دانست میں عام مسلمانوں کو خوش کرنے کے لئے جو کارنامہ وہ چھوڑ جائیں گے۔اس سے بہتر کوئی نہ ہو گا مسلمان ایک قوم ہے جو سب سے زیادہ مذہب کا رنگ اپنے اندر رکھتی ہے اور ہر ایک تالیف قلوب جو مذہبی رنگ میں کی جائے وہ ان کے دلوں کو کھینچ لیتی ہے پس اعلیٰ سے اعلیٰ حکمتِ عملی مسلمانوں کے مسخر کرنے کی یہی ہے کہ مذہبی رنگ میں ان کو کوئی فائدہ پہنچایا جائے۔چونکہ تاجپوشی کے جلسہ کا موقع ایک ایسا بابرکت موقع ہے کہ ہندو، مسلمانوں کی اس طرف آنکھیں لگی ہوئی ہیں کہ اس مبارک رسم کی یادگار میں کیا کچھ سرفرازی ہر دوفریق کی کی جاتی ہے۔پس اگر گورنمنٹ اس مبارک دن کی یادگار کے لئے مسلمانوں کے لئے جمعہ کی تعطیل کھول دے یا اگر نہ ہو سکے تو نصف دن کی ہی تعطیل دیدے تو میں سمجھ نہیں سکتا کہ عام دلوں کو خوش کرنے کے لئے اس سے زیادہ کوئی کارروائی ہے مگر چونکہ گورنمنٹ کی فیاضی کا تنگ دائرہ نہیں ہے اور اگر توجہ پیدا ہو تو اس کو کچھ پروا نہیں ہے اس لئے صرف نصف دن کی تعطیل ایک ادنیٰ بات ہے۔یقین ہے کہ گورنمنٹ عالیہ اس مبارک یادگار میں پورے دن کی تعطیل عنایت فرمائے گی اور یہی مسلمانوں کو توقع ہے۔جمعہ کے دن کو کچھ مسلمانوں سے ہی خصوصیت نہیں بلکہ یہ دن عیسائی