مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 219 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 219

کہنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ خاتم النبییّن کی مُہر ٹوٹ گئی کیونکہ وجود بروزی کوئی الگ وجود نہیں۔اس طرح پر تو محمد کے نام کی نبوت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک ہی محدود رہی۔تمام انبیاء علیہم السلام کا اس پر اتفاق ہے کہ بروز میں دوئی نہیں ہوتی کیونکہ بروز کا مقام اس مضمون کا مصداق ہوتا ہے کہ من تو شدم تو من شدی من تن شدم تو جاں شدی ۱؎ تا کس نہ گوید بعد زیں من دیگرم تو دیگری لیکن اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آئے تو بغیر خاتم النبییّن کی مُہر توڑنے کے کیونکر دنیا میں آ سکتے ہیں۔غرض خاتم النبییّن کا لفظ ایک الٰہی مُہر ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر لگ گئی ہے اب ممکن نہیں کہ کبھی یہ مُہر ٹوٹ جائے ہاں یہ ممکن ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہ ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ دنیا میں بروزی رنگ میں آ جائیں اور بروزی رنگ میں اور کمالات کے ساتھ اپنی نبوت کا بھی اظہار کریں اور یہ بروز خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک قرار یافتہ عہد تھا۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور انبیاء کو اپنے بروز پر غیرت نہیں ہوتی کیونکہ وہ انہی کی صورت اور انہی کا نقش ہے لیکن دوسرے پر ضرور غیرت ہوتی ہے دیکھو حضرت موسیٰ نے معراج کی رات جب دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے مقام سے آگے نکل گئے تو کیونکر رو رو کر اپنی غیرت ظاہر کی۔تو پھر جس حالت میں خدا تو فرمائے کہ تیرے بعد کوئی اور نبی نہیں آئے گا اور پھر اپنے فرمودہ کے برخلاف عیسیٰ کو بھیج دے تو پھر کس قدر یہ فعل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دلآزاری کا موجب ہوگا۔غرض بروزی رنگ کی نبوت سے ختم نبوت میں فرق نہیں آتا اور نہ مُہر ٹوٹتی ہے لیکن کسی دوسرے نبی کے آنے سے اسلام کی بیخ کنی ہو جاتی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس میں سخت اہانت ہے کہ عظیم الشان کام دجال کشی کا عیسیٰ سے ہوا نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے