مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 167
دستی تحریر اس بارے میں میرے پا س موجود ہے۔اب بتلائو کہ ایک فریق تو مجھے کافر کہتا ہے اور دجّال نام رکھتا ہے اور اپنے مخالفانہ الہام سُناتا ہے جن میں سے منشی الٰہی بخش صاحب اکونٹنٹ ہیں جو مولوی عبداﷲ صاحب کے مُرید ہیں اور دوسرا فریق مجھے آسمان کا نور سمجھتا ہے اور اس بارے میں اپنے کشف ظاہر کرتا ہے جیسا کہ منشی الٰہی بخش صاحب کا مرشد مولوی عبدا ﷲ صاحب غزنوی اور پیرصاحب العلم ہیں۔اب اس قدر اندھیر کی بات ہے کہ مرشد خدا سے الہام پاکر میری تصدیق کرتا ہے اورمُرید مجھے کافر ٹھیراتا ہے۔کیا یہ سخت فتنہ نہیں ہے؟ کیا ضروری نہیں کہ اس فتنہ کو کسی تدبیر سے درمیان سے اُٹھایا جائے؟ اور وہ یہ طریق ہے کہ اوّل ہم اس بزرگ کو مخاطب کرتے ہیں جس نے اپنے بزرگ مرشد کی مخالفت کی ہے یعنی منشی الٰہی بخش صاحب اکونٹنٹ کو۔اور ان کے لئے دو طور پر طریق تصفیہ قرار دیتے ہیں۔اوّل یہ کہ ایک مجلس میں ان ہر دوگواہوں سے میری حاضری میں یا میرے کسی وکیل کی حاضری میں مولوی عبداﷲ صاحب کی روایت کو دریافت کر لیں اور اُستاد کی عزت کا لحاظ کر کے اس کی گواہی کو قبول کر لیں اور پھر اس کے بعد اپنی کتاب عصائے موسیٰ کو مع اس کی تمام نکتہ چینیوں کے کسی ردی میں پھینک دیں ۱؎ جبکہ منشی الٰہی بخش صاحب کو الہام ہو چکے ہیں کہ مولوی عبداﷲ صاحب کی مخالفت ضلالت ہے تو ان کو چاہیے کہ اپنے اس الہام سے ڈریں اور لَاتَـکُوْنُوْا اَوَّلَ کَافِرٍبِہٖ کا مصداق نہ بنیں اور حافظ محمدیوسف صاحب کے کسی غائبانہ انکار پر بھروسہ نہ کر بیٹھیں۔حافظ صاحب کی ایک مضبوط کل ہمارے ہاتھ میں آ گئی ہے۔اوّل ہم اُن کو ایک مجلس میں قسم دیں گے اور پھر وہ قطعی ثبوت کی حقیقت ظاہر کریں گے۔پھر منشی الٰہی بخش صاحب اپنی کتاب عصائے موسیٰ میں مولوی عبداﷲ صاحب غزنوی کی نسبت لکھتے ہیں کہ وہ بڑے بزرگ صاحب ِ انفاس اور صاحب ِکشف اور الہام تھے۔ان کی صحبت میں تاثیرات تھیں ہم ان کے ادنیٰ غلام ہیں۔میں کہتا ہوں کہ جبکہ وہ ایسے بزرگ تھے اور آپ اُن کے ادنیٰ مرید ہیں تو آپ کیوں ایسے بزرگ پر ہاتھ صاف کرنے لگے۔تعجب کہ وہ یہ کہیں کہ