مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 158 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 158

کیوں درخواست کی جس کو مَیں عہد مستحکم کے ساتھ ترک کر بیٹھا تھا اور اس درخواست میں لوگوں کو یہ دھوکا دیا کہ گویا وہ میری دعوت کو قبول کرتا ہے دیکھو یہ کیسے عجیب مکر سے کام لیا اور اپنے اشتہار میں یہ لکھا کہ اوّل منقولی بحث کرو۔اور اگر شیخ محمد حسین بٹالوی اور اس کے دو رفیق قسم کھا کر کہہ دیں کہ عقائد صحیح وہی ہیں جو مہر علی شاہ پیش کرتا ہے تو بلاتوقف اسی مجلس میں میری بیعت کر لو۔اب دیکھو دنیا میں اس سے زیادہ بھی کوئی فریب ہوتا ہے۔؟ مَیں نے تو اُن کو نشان دیکھنے اور نشان دکھلانے کے لئے بُلایا اور یہ کہا کہ بطور اعجاز دونوں فریق قرآن شریف کی کسی سورۃ کی عربی میں تفسیر لکھیں اور جس کی تفسیر اور عربی عبارت فصاحت اور بلاغت کے رُو سے نشان کی حد تک پہنچی ہوئی ثابت ہو وہی مؤید من اﷲ سمجھا جائے اور صاف لکھ دیا کہ کوئی منقولی بحثیں نہیں ہوں گی صرف نشان دیکھنے اور دکھلانے کے لئے یہ مقابلہ ہو گا لیکن پیر صاحب نے میری اس تمام دعوت کو کالعدم کر کے پھر منقولی بحث کی درخواست کر دی اوراسی کو مدار فیصلہ ٹھہرا دیا اور لکھ دیا کہ ہم نے آپ کی دعوت منظور کر لی صرف ایک شرط زیادہ لگا دی۔اے مکّار! خدا تجھ سے حساب لے۔تُونے میری شرط کا کیا منظور کیا جبکہ تیری طرف سے منقولی بحث پر بیعت کا مدار ہو گیا جس کو مَیں بوجہ مشتہر کردہ عہد کے کسی طرح منظور نہیں کر سکتا تھا تو میری دعوت کیا قبول کی گئی؟ اور بیعت کے بعد اس پر عمل کرنے کا کونسا موقع رہ گیا۔کیا یہ مکر اس قسم کا ہے کہ لوگوں کا یہ ایمان ہے۔اس قدر ظلم کر کے پھر اپنے اشتہاروں میں ہزاروں گالیاں دیتے ہیں گویا مرنا نہیں۔اور کیسی خوشی سے کہتے ہیں کہ مہر علی شاہ صاحب لاہور میں آئے ان سے مقابلہ نہ کیا۔جن دلوں پر خدا لعنت کرے مَیں ان کا کیا علاج کروں۔میرا دل فیصلہ کے لئے دردمند ہے۔ایک زمانہ گذر گیا میر ی یہ خواہش اب تک پوری نہیں ہوئی کہ ان لوگوں میں سے کوئی راستی اور ایمانداری اور نیک نیتّی سے فیصلہ کرنا چاہے مگر افسوس کہ یہ لوگ صدق دل سے میدان میں نہیں آتے۔خدا فیصلہ کے لئے طیاّر ہے اور اُس اُونٹی کی طرح جو بچہ جننے کے لئے دُم اُٹھاتی ہے زمانہ خود فیصلہ کا تقاضا کرتارہا ہے۔کاش اُن میں سے کوئی فیصلہ کا طالب ہو۔کاش ان میں سے کوئی رشید ہو۔مَیں بصیرت سے