مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 122 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 122

کرنا قبول فرماتے تو اُن کا فخر تھا کہ ایسے سیّد بزرگوار محدّث اور فقیہ نے اپنے مقابلہ کے لئے اُن کو قبول کیا۔مگر افسوس کہ سیّد صاحب موصوف نے جب دیکھا کہ اس جماعت میں ایسے گندے لوگ موجود ہیں کہ گندی گالیاں اُن کا طریق ہے تو اس کو مشتے نمونہ ازخروارے پر قیاس کر کے ایسی مجلسوں میں حاضر ہونے سے اعراض بہتر سمجھا۔ہاں مَیں نے پیر مہر علی شاہ صاحب کے لئے بطور تحفہ ایک رسالہ تالیف کیا جس کا نام مَیں نے تحفہ گولڑویہ رکھا ہے جب پیر صاحب موصوف اس کا جواب لکھیں گے تو خود لوگوں کو معلوم ہو جائے گا کہ ہمارے دلائل کیا ہیں اوران کا جواب کیا۔اب ہم اپنے اس اشتہار کے مقابل پر جو بنا اس دعوت کی ہے۔پیر مہر علی شاہ صاحب کا اشتہار لکھ دیتے ہیں۔۱؎ ناظرین خود فیصلہ کر لیں کہ آیا ان کا جواب نیک نیتی اور حق پژوہی کی راہ سے ہے یا شطرنج کے کھیلنے والے کی طرح ایک چال ہے۔وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْہُدٰی۔المشتـــــــــــــــــــــــــــــــھر خاکسار مرزا غلام احمد قادیانی ۲۵؍ اگست ۱۹۰۰ء۲؎ تبلیغ رسالت جلد دہم صفحہ ۱۳۵ تا ۱۳۷ ا اگلے صفحہ پر ملاحظہ کریں ۲ تاریخ کا ذکر مکرم میر قاسم علی صاحب ؓ نے تبلیغ رسالت میں کیا ہے اصل اشتہار میں تاریخ نہ ہے۔ملاحظہ ہو تبلیغ رسالت جلد ۱۰ صفحہ ۱۳۷ ناشر