مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 111 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 111

جائے۔مگر یہ ضروری شرط ہو گی کہ سُنانے سے پہلے اسی دن اور اسی وقت جبکہ وہ بالمقابل تحریر ختم کر چکے ہوں ایک نقل بعد ثبت دستخط مجھ کو دے دیں اور جائز نہیں ہو گا کہ نقل دینے کے بعد اس مضمون پر کچھ زیادہ کریں یا اصلاح کریں اور سہوونسیان کا کوئی عذر سُنا نہیں جائے گا۔اور اس شرط کا ہم میں سے ہر ایک پابند ہو گا۔(۸) تمام مضامین کے سُنانے کے بعد تین مولوی صاحبان جن کو پیر مہر علی شاہ صاحب تجویز کریں گے اس قسم کے تین مرتبہ کے حلف کے ساتھ جو قذفِ محسنات کے بارے میں قرآن شریف میں مندرج ہے اپنی رائے ظاہر کریں گے کہ کیا یہ تمام مولوی صاحبان مقابل میں غالب رہے یا مغلوب رہے اور وہ رائے منطبع ہو کر وہی آخری فیصلہ ہمارا اور ہمارے اندرونی مخالفوں کا قطعی طور پر قرار دیا جائے گا۔۱؎ (۹) نویں شرط یہ ہے کہ اگر الٰہی رُعب کے نیچے آ کر پیر مہر علی شاہ صاحب اس مقابلہ سے ڈر جائیں اور دل میں اپنے تئیں کاذب اور ناحق پر سمجھ کرگریز اختیار کر لیں تو اس صورت میں یہ جائز نہیں ہو گا کہ دوسرے مولویوں میں سے صرف ایک یا دو شخص مقابلہ کا اشتہار دیں کیونکہ ایسا مقابلہ بے فائدہ اور محض تضیع اوقات ہے۔وجہ یہ کہ بعد میں دوسرے مولویوں کے لئے یہ عذر بنا رہتا ہے کہ مقابلہ کرنے والے کیا چیز اور کیا حقیقت تھے یا جاہل اور بے علم تھے۔لہٰذا یہ ضروری شرط ہو گی کہ اس حالت میں جبکہ پیر مہر علی شاہ صاحب اپنے مریدوں کو دریائے ندامت میں ڈال کر بھاگ جائیں اور اپنے لئے کنارہ کشی کا داغ قبول کر لیں تو کم سے کم چالیس نامی مولویوں کا ہونا ضروری ہے جو میدان میں آنے کی درخواست کریں اور ہمیں منظور ہے کہ وہ ان میں سے ہوں جن کے نام ذیل میں لکھے جائیں گے یا اسی درجہ کے اور مولوی صاحبان باہم مل کر اشتہار دیں کہ ۱؎ اگر بعض مولوی صاحبان جو لاہور سے کسی قدر فاصلہ پر رہتے ہیں یہ عذر پیش کریں کہ ہم بوجہ ناداری لاہور پہنچ نہیں سکتے تو مناسب ہے کہ وہ بطور قرضہ انتظام کرایہ سفر کر کے لاہور پہنچ جائیں۔اگر فتحیاب ہو گئے تو میں کل کرایہ آمدورفت ان کادے دوں گا۔منہ