مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 109 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 109

(۱) اس مقابلہ کے لئے پیر مہر علی صاحب کی بہر حالت شمولیت ضروری ہو گی۔کیونکہ خیال کیا گیا ہے کہ وہ علم عربی اور قرآن دانی میں ان تمام مولویوں سے بزرگ اور افضل ہیں۔لہذا کسی دوسرے مولوی کو صرف اس حالت میں قبول کیا جائے گا کہ جب پیر مہر علی شاہ صاحب اس دعوت کو قبول کر کے بذریعہ کسی چھپے ہوئے اشتہار کے شائع کر دیں کہ مَیں مقابلہ کے لئے طیار ہوں۱؎ یامقابلہ کرنے والے علماء کی ایک ایسی جماعت پیش کریں جو چالیس سے کم نہ ہو۔ہاں ضروری ہو گا کہ دوسرے مولوی صاحبوں کے لئے وقت اور گنجائش نکالنے کے لئے پیر صاحب موصوف مباحثہ کے لئے ایک مہینے سے کم تاریخ مقرر نہ کریں تا اس مدّت تک باور کرنے کی وجہ پیدا ہو جائے کہ ان تمام مولویوں کو پیر مہر علی شاہ صاحب کے اشتہار سے اطلاع ہو گئی ہے پہلے میں نے ایک ہفتہ مقررکیا تھا مگر اب اس لحاظ سے اس قدر تھوڑی میعاد عام اطلاع کے لئے کافی نہیں ہاں ضروری ہو گا کہ اس اشتہارکے شائع ہونے کے بعد پیر صاحب موصوف دس دن کے اندر اس دعوت کے قبول کے بارے میں ایک عام اشتہار شائع کر دیں۔اور بہتر ہو گا کہ پانچ ہزار کاپی چھپوا کر بذریعہ چند نامی مولوی صاحبان پنجاب وہندوستان میں اس معرکہ مباحثہ کی عام شہرت دے دیں۔(۲) دوسری شرط یہ ہو گی کہ مقام مباحثہ لاہور ہو گا جو صدر مقام پنجاب ہے اور تجویز مکان پیر صاحب کے ذمّہ ہو گی۔لیکن اگر وہ اپنے اس اشتہار میں جس کا اُوپر ذکر کیا گیا ہے تجویز مکان اپنے ذمہ نہ لیں تو پھر یہ تجویز میرے ذمہ ہو گی اور کچھ حرج نہیں تمام کرایہ مکان مباحثہ کا مَیں ہی دوں گا۔(۳) تیسری یہ شرط ہے کہ بحث صرف ایک دن میں ہی ختم ہو جائے گی اور ہر ایک شخص مقابل کوسات گھنٹے تک لکھنے کے لئے مہلت ملے گی۔(۴) چوتھی یہ شرط ہے کہ جس قدر اس مقابلہ کے لئے مولوی صاحبان حاضر ہوں گے اُن کے ۱؎ پیر مہر علی شاہ صاحب پر یہ فرض ہو گا کہ اگر وہ اپنے تئیں مرد میدان سمجھیں تو اشتہار ہذا کی اشاعت کی تاریخ سے یعنی اس روز سے جو بذریعہ رجسٹری اشتہار ہذا ان کو پہنچ جائے۔دس روز کے اندر اپنی طیاری مقابلہ اور قبول شرائط سے ہمیں اور پبلک کو اطلاع دیں۔منہ