مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 611 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 611

مجموعہ اشتہارات ۶۱۱ جلد دوم اور خدا کی طاقت پائی جاتی ہے تو یہ گورنمنٹ دنیا کی تمام قوموں پر احسان کرے گی اور اس طرح سے ایک سچے مذہب کو اس کی تمام روحانی زندگی کے ساتھ دنیا پر پیش کر کے تمام دنیا کو راہ راست پر لے آئے گی کیونکہ وہ تمام شور و غوغا جو کسی ایسے مذہب کے لیے کیا جاتا ہے جس کے ساتھ فوق العادت زندہ نشان نہیں وہ محض روایات پر مدار ہے وہ سب بیچ ہے کیونکہ کوئی مذہب بغیر نشان کے انسان کو خدا سے نزدیک نہیں کر سکتا اور نہ گناہ سے نفرت دلا سکتا ہے مذہب، مذہب پکارنے میں ہر ایک کی بلند آواز ہے۔لیکن کبھی ممکن نہیں کہ فی الحقیقت پاک زندگی اور پاک دلی اور خدا ترسی میسر آ سکے جب تک کہ انسان مذہب کے آئینہ میں کوئی فوق العادت نظارہ مشاہدہ نہ کرے نئی زندگی ہرگز حاصل نہیں ہوسکتی جب تک ایک نیا یقین پیدا نہ ہو۔اور کبھی نیا یقین پیدا نہیں ہوسکتا جب تک موسیٰ اور مسیح اور ابراہیم اور یعقوب اور محمد مصطفے صلے اللہ علیہ وسلم کی طرح نئے معجزات نہ دکھائے جائیں نئی زندگی انہی کو ملتی ہے جن کا خدا نیا ہو، یقین نیا ہونشان نئے ہوں اور دوسرے تمام لوگ قصّوں کہانیوں کے جال میں گرفتار ہیں۔دل غافل ہیں اور زبانوں پر خدا کا نام ہے۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ زمین کے شور و غوغا تمام قصے اور کہانیاں ہیں اور ہر ایک شخص جو اس وقت کئی سو برس کے بعد اپنے کسی پیغمبر یا اوتار کے ہزار ہا معجزات سناتا ہے وہ خود اپنے دل میں جانتا ہے کہ وہ ایک قصہ بیان کر رہا ہے جس کو نہ اُس نے اور نہ اُس کے باپ نے دیکھا ہے اور نہ اس کے دادے کو اُس کی خبر ہے۔وہ خود نہیں سمجھ سکتا کہ کہاں تک اس کا یہ بیان صحیح اور درست ہے کیونکہ یہ دنیا کے لوگوں کی عادت ہے کہ ایک تنکے کا پہاڑ بنا دیا کرتے ہیں اس لئے یہ تمام قصے جو معجزات کے رنگ میں پیش کئے جاتے ہیں ان کا پیش کرنے والا خواہ کوئی مسلمان ہو یا عیسائی ہو جو حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا جانتا ہے یا کوئی ہندو ہو جو اپنے اوتاروں کے کرشمے کتا ہیں اور ٹپستک کھول کر سناتا ہے یہ سب کچھ بیچ اور لاشے ہیں اور ایک کوڑی ان کی قیمت نہیں ہو سکتی جب تک کہ کوئی زندہ نمونہ ان کے ساتھ نہ ہو۔اور سچا مذ ہب وہی ہے جس کے ساتھ زندہ نمونہ ہے۔کیا کوئی دل اور کوئی کانشنس اس بات کو قبول کر سکتا ہے کہ ایک مذہب تو سچا ہے مگر اس کی سچائی کی چمکیں اور سچائی کے نشان آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئے ہیں۔اور ان