مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 552
مجموعہ اشتہارات ۵۵۲ جلد دوم خیز تا از در آن یار مرادے طلبیم له بر در دوست نشینیم و کشادے طلبیم ۲۱۴ جلسة الوداع به که با دست دعاصِدق وسدادے طلبیم دیر گاہے است کہ بینیم زمیں پر ز فسادے (ضمیمہ اشتہار لا نصار ۴ اکتوبر ۱۸۹۹ء) ہم اس اشتہار میں لکھ چکے ہیں کہ ہماری جماعت میں سے تین آدمی اس کام کے لئے منتخب کئے گے کہ وہ نصیبین اور اس کی نواح میں جاویں اور حضرت عیسی علیہ السّلام کے آثار اس ملک میں تلاش کریں۔اب حال یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے سفر کے خرچ کا امر تقریباً انتظام پذیر ہو چکا ہے۔صرف ایک شخص کی زادراہ کا انتظام باقی ہے یعنی اخویم مگر می مولوی حکیم نورالدین صاحب نے ایک آدمی کے لئے ایک طرف کا خرچ دے دیا ہے اور اخویم منشی عبد العزیز صاحب پٹواری ساکن او جله ضلع گورداسپورہ نے باوجود قلت سرمایہ کے ایک سو چھپیں روپیہ دیئے ہیں اور میاں جمال الدین کشمیری ساکن سیکھواں ضلع گورداسپورہ اور اُن کے دو برادر حقیقی میاں امام الدین اور ۵۰ ۱۲۵ میاں خیر الدین نے پچاس روپیہ دیئے ہیں۔ان چاروں صاحبوں کے چندہ کا معاملہ نہایت عجیب اور قابل رشک ہے کہ وہ دنیا کے مال سے نہایت ہی کم حصہ رکھتے ہیں۔گویا حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی طرح جو کچھ گھروں میں تھا وہ سب لے آئے ہیں اور دین کو آخرت پر مقدم کیا جیسا کہ بیعت میں شرط تھی۔ایسا ہی مرزا خدا بخش صاحب نے بھی اس سفر خرچ کے کئے پچاس روپیہ چندہ دیا ہے خدا تعالیٰ سب کو اجر بخشے۔آج ۱۰ اکتوبر ۱۸۹۹ء کو قرعہ اندازی کے ذریعہ سے وہ دو شخص تجویز کئے لے ترجمہ۔اٹھو اس محبوب کے در سے اپنی مراد مانگیں ، دوست کے دروازہ پر دھونی رمائیں اور کشائش طلب کریں۔کے مدتوں سے ہم زمین کو فساد سے بھرا ہوا دیکھتے ہیں بہتر یہی ہے آؤ ہم دعامانگ کر صدق اور راستی طلب کریں۔