مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 545
مجموعہ اشتہارات ۵۴۵ جلد دوم جوش سے بھیجتے رہے ہیں۔اور جو ایک سو روپیہ ماہواری ہے وہ اس سے علاوہ ہے۔اسی طرح جبی في الله شیخ رحمت اللہ صاحب تاجر لا ہور سیٹھ صاحب مصرع ثانی ہیں۔میں خوب جانتا ہوں کہ شیخ صاحب موصوف دل و جان سے ہمارے صحت ہیں۔انہوں نے فوجداری مقدمات میں جو میرے پر کئے گئے تھے۔اپنے بہت سے روپیہ سے میری مدد کی اور جوش محبت سے دیوانہ وار سر گردان ہو کر میری ہمدردی کرتے رہے۔اب وہ ہمارے کام کے لئے صد ہاروپیہ کا خرچ اُٹھا کر لندن میں بیٹھے ہیں۔خدا تعالیٰ ان کو جلد تر خیر و عافیت سے واپس لائے۔یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ جبى فى الله سردار نواب محمد علی خان صاحب بھی محبت اور اخلاص میں بہت ترقی کر گئے ہیں اور فراست صحیحہ شہادت دیتی ہے کہ وہ بہت جلد قابل رشک اخلاص اور محبت کے منار تک پہنچیں گے اور وہ ہمیشہ حتی الوسع مالی امداد میں بھی کام آتے رہے ہیں۔اور امید ہے کہ وہ اس سے بھی زیادہ خدا کی راہ میں اپنے مالوں کو فدا کریں گے۔خدا تعالیٰ ہر ایک کے عملوں کو دیکھتا ہے۔مجھے کہنے اور لکھنے کی ضرورت نہیں۔ان کے سوا اور بھی مخلص ہیں۔جنہوں نے حال میں ہی بیعت کی ہے جیسا کہ ان دنوں جبی فی اللہ ڈاکٹر رحمت علی صاحب ہاسپٹل اسٹنٹ ممباسہ جو ہزار ہا کوس سے اپنا اخلاص ظاہر کر رہے ہیں اور انہوں نے اور ان کے دوستوں نے ممباسہ ملک افریقہ سے اپنی مالی امداد سے بہت سا ثواب حاصل کیا ہے۔اور ڈاکٹر صاحب پر امید ہے کہ وہ آئندہ بھی بہت توجہ سے خود اور اپنی جماعت سے یہ نصرت دین کا کام لیں گے۔ایسا ہی میری جماعت میں سے شیخ حامد علی تھصہ غلام نبی اور میاں عبدالعزیز پٹواری سکنہ اوجلہ اور میاں جمال الدین اور خیر الدین اور امام الدین کشمیریان ساکنان سیکھواں اور صاحبزادہ افتخار احمد صاحب لدھیانہ اور جبی فی اللہ منشی چودھری نبی بخش صاحب رئیس بٹالہ جو بطور ہجرت اسی جگہ قادیان میں آگئے ہیں۔اور منشی رستم علی صاحب کورٹ انسپکٹر انبالہ شہر اور میاں عبد اللہ صاحب پٹواری ساکن سنور ریاست پٹیالہ اور سید فضل شاہ صاحب اور سید ناصر شاہ لے افسوس کہ ہم اختصار کی وجہ سے ان تمام مخلصوں کے نام اس اشتہار میں نہیں لکھ سکے جو ممباسہ اور اس کے نواح میں موجود ہیں۔منہ