مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 475 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 475

۴۷۵ جلد دوم مجموعہ اشتہارات پھر وہ ہمارا دینی پیشوا اور خدا کا سچا خلیفہ کیونکر ہوا۔آخر انگریز ہی تھے جنہوں نے ہم پر یہ احسان کیا کہ پنجاب میں آتے ہی یہ ساری روکیں اُٹھا دیں۔ہماری مسجد میں آباد ہو گئیں۔ہمارے مدر سے کھل گئے اور عام طور پر ہمارے وعظ ہونے لگے اور ہزار ہا غیر قوموں کے لوگ مسلمان ہوئے۔پس اگر ہم محمد حسین کی طرح یہ اعتقاد رکھیں کہ ہم صرف پولیٹیکل طور پر اور ظاہری مصلحت کے لحاظ سے یعنی منافقانہ طور پر انگریزوں کے مطیع ہیں ورنہ دل ہمارے سلطان کے ساتھ ہیں وہ خلیفہ اسلام اور دینی پیشوا ہے۔اُس کے خلیفہ ہونے کے انکار سے اور اس کی نافرمانی سے انسان کا فر ہو جاتا ہے تو اس اعتقاد سے بلاشبہ ہم گورنمنٹ انگریزی کے چھپے باغی اور خدا تعالیٰ کے نافرمان ٹھہریں گے۔تعجب ہے کہ گورنمنٹ ان باتوں کی تہہ تک کیوں نہیں پہنچتی اور ایسے منافق پر کیوں اعتبار کیا جاتا ہے کہ جو گورنمنٹ کو کچھ کہتا ہے اور مسلمانوں کے کانوں میں کچھ پھونکتا ہے۔میں گورنمنٹ عالیہ کی خدمت میں ادب سے عرض کرتا ہوں کہ گورنمنٹ عالیہ غور سے اس شخص کے حالات پر نظر کرے کہ یہ کیسے منافقانہ طریقوں پر چل رہا ہے اور جن باغیانہ خیالات میں آپ مبتلا ہے وہ میری طرف منسوب کرتا ہے۔بالآخر یہ بھی لکھنا ضروری ہے کہ جس قدر اس شخص نے مجھے گندی گالیاں دیں اور محمد بخش جعفر زٹلی سے دلائیں اور طرح طرح کے افترا سے میری ذلت کی اس میں میری فریاد جناب اٹھی میں ہے جو دلوں کے خیالات کو جانتا ہے اور جس کے ہاتھ میں ہر ایک کا انصاف ہے۔میں یہی چاہتا ہوں کہ جس قسم کی ذلت جھوٹے بہتانوں سے اس شخص نے کی یہاں تک کہ گورنمنٹ عالیہ کی خدمت میں مجھے باغی ٹھہرانے کے لئے خلاف واقعہ باتیں بیان کیں۔وہی ذلت اس کو پیش آوے۔میرا ہرگز یہ مدعا نہیں ہے کہ بجز طریق جَزَاءُ سَيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا کے کسی اور ذلت میں یہ مبتلا ہو بلکہ میں مظلوم ہونے کی حالت میں یہی چاہتا ہوں کہ جو کچھ میرے لئے اس نے ذلت کے سامان کیسے ہیں اگر اُن تہمتوں سے پاک ہوں تو وہ ذلتیں اس کو پیش آویں۔اگر چہ میں جانتا ہوں کہ یہ گورنمنٹ بہت حلیم اور حتی المقدور چشم پوشی کرنے والی ہے۔لیکن اگر میں بقول محمد حسین باغی ہوں یا جیسا کہ میں نے