مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 469
مجموعہ اشتہارات ۴۶۹ جلد دوم شیخ محمد حسین بٹالوی اور محمد بخش جعفر زٹلی اور ابوالحسن تبتی کے لکھا گیا تھا۔یہ لوگ خاموش رہتے کیونکہ اشتہار میں صاف طور پر یہ لفظ تھے کہ ۵ ار جنوری ۱۹۰۰ ء تک اس بات کی میعاد مقرر ہو گئی ہے کہ جو شخص کا ذب ہو گا خدا اس کو ذلیل اور رسوا کرے گا۔اور یہ ایک کھلا کھلا معیار صادق و کاذب کا تھا جو خدا تعالیٰ نے اپنے الہام کے ذریعہ سے قائم کیا تھا۔اور چاہیے تھا کہ یہ لوگ اُس اشتہار کے شایع ہونے کے بعد چپ ہو جاتے اور ۱۵ جنوری ۱۹۰۰ ء تک خدا تعالیٰ کے فیصلہ کا انتظار کرتے۔لیکن افسوس کہ انہوں نے ایسا نہیں کیا۔بلکہ زٹلی مذکور نے اپنے اشتہار ۳۰ /نومبر ۱۸۹۸ء میں وہی گند پھر بھر دیا جو ہمیشہ اس کا خاصہ ہے اور سراسر جھوٹ سے کام لیا۔وہ اس اشتہار میں لکھتا ہے کہ کوئی پیشگوئی اس شخص یعنی اس عاجز کی پوری نہیں ہوئی۔ہم اس کے جواب میں بجز اس کے کیا کہیں کہ لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِینَ۔وہ یہ بھی کہتا ہے کہ آتھم کے متعلق پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔ہم اس کے جواب میں بھی بجز لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِینَ کچھ نہیں کہہ سکتے۔اصل تو یہ ہے کہ جب انسان کا دل بخل اور عناد سے سیاہ ہو جاتا ہے تو وہ دیکھتے ہوئے نہیں دیکھتا اور سنتے ہوئے نہیں سنتا۔اُس کے دل پر خدا کی مہر لگ جاتی ہے۔اس کے کانوں پر پردے پڑ جاتے ہیں۔یہ بات اب تک کس پر پوشیدہ ہے کہ آتھم کی پیشگوئی شرطی تھی اور خدا کے الہام نے ظاہر کیا تھا کہ وہ رجوع الی الحق کی حالت میں میعاد کے اندر مرنے سے بچ جائے گا اور پھر آتھم نے اپنے افعال سے اپنے اقوال سے اپنی سرامیگی سے اپنے خوف سے اپنے قسم نہ کھانے سے اپنے نالش نہ کرنے سے ثابت کر دیا کہ ایام پیشگوئی میں اس کا دل عیسائی مذہب پر قائم نہ رہا اور اسلام کی عظمت اس کے دل میں میں بیٹھ گئی اور یہ کچھ بعید نہ تھا کیونکہ وہ مسلمانوں کی اولا د تھا اور اسلام سے بعض اغراض کی وجہ سے مُرتد ہوا تھا۔اسلامی چاشنی رکھتا تھا۔اسی وجہ سے اس کو پورے طور پر عیسائیوں کے عقیدہ سے اتفاق بھی نہیں تھا اور میری نسبت وہ ابتدا سے نیک ظن رکھتا تھا۔لہذا اس کا اسلامی پیشگوئی سے ڈرنا قرین قیاس تھا۔پھر جبکہ اُس نے قسم کھا کر اپنی عیسائیت ثابت نہ کی اور نہ نالش کی اور چور کی طرح ڈرتا رہا اور عیسائیوں کی سخت تحریک سے بھی وہ اُن کا موں کے لئے آمادہ نہ ہوا تو کیا اس کی یہ حرکات ایسی نہ تھیں کہ اس