مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 426
مجموعہ اشتہارات ۴۲۶ جلد دوم گھر خالی کر دیا جائے۔اس پر بعض جاہلوں نے ناراضگی ظاہر کی۔لیکن میں خیال کرتا ہوں کہ اگر گورنمنٹ کی طرف سے یہ حکم ہوتا کہ جس گھر میں طاعون کی واردات ہو وہ لوگ ہرگز اُس گھر کو خالی نہ کریں اور اسی میں رہیں تب بھی نادان لوگ اُس حکم کی مخالفت کرے اور دو تین واردات کے بعد اُس گھر سے نکلنا شروع کر دیتے۔سچ تو یہ ہے کہ نادان انسان کسی پہلو سے خوش نہیں ہوتا۔پس گورنمنٹ کو چاہیے کہ نادانوں کے بے جا واویلا سے اپنی سچی خیر خواہی رعایا کو ہرگز نہ چھوڑے کہ یہ لوگ اُن بچوں کا حکم رکھتے ہیں کہ جو اپنی ماں کی کسی کا رروائی کو پسند نہیں کر سکتے۔ہاں ایسی ہمدردی کے موقعہ پر نہایت درجہ کی ضرورت ہے کہ ایسی حکمت عملی ہو جوڑ عب بھی ہواور نرمی بھی ہواور نیز اس ملک میں رسوم پردہ داری کی غایت درجہ رعایت چاہیے۔اور اس مصیبت میں جو طاعون زدہ لوگوں اور اُن کے عزیزوں کو جو مشکلات اوقات بسری کے پیش آئیں شفقت پدری کی طرح حتی الوسع ان مشکلات کو آسان کرنا چاہیے بہتر ہے کہ اس وقت سب لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں تا انجام بخیر ہو۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى الراقم خاکسار میرزاغلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور مطبع ضیاء الاسلام قادیان ید اشتہار " کے ایک صفحہ پر درج ہے) ۲۲ را پریل ۱۸۹۸ء (روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۱۳۱۴ تبلیغ رسالت جلد ۷ صفحه ۳۶،۳۵) ے نوٹ۔یادر ہے کہ اگر چہ ہماری جماعت کا یہ ایک جلسہ ہے لیکن اگر کوئی شریف نیک اندیش اس جلسہ میں شامل ہونا چاہے تو خوشی سے اس کی شمولیت منظور کی جائے گی۔منہ