مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 391
مجموعہ اشتہارات ۳۹۱ جلد دوم تدابیر پیدا ہوں مگر ابھی نہ ہمارے ہاتھ میں نہ گورنمنٹ کے ہاتھ میں ڈاکٹری اصول کے لحاظ۔کوئی ایسی تدبیر ہے کہ جو شائع کردہ تدابیر سے عمدہ اور بہتر ہو۔ނ بعض اخبار والوں نے گورنمنٹ کی تدابیر پر بہت کچھ جرح کیا مگر سوال تو یہ ہے کہ ان تدابیر سے بہتر کونسی تدبیر پیش کی۔بے شک اس ملک کے شرفاء اور پردہ داروں پر یہ امر بہت کچھ گراں ہوگا ہے پر یہ کہ جس گھر میں بلاءِ طاعون نازل ہو تو گو ایسا مریض کوئی پردہ دار جوان عورت ہی ہو تب بھی فی الفور وہ گھر والوں سے الگ کر کے ایک علیحدہ ہوا دار مکان میں رکھا جائے جو اس شہر یا گاؤں کے بیماروں کے لئے گورنمنٹ کی طرف سے مقرر ہو۔اور اگر کوئی بچہ بھی ہو تو اس سے بھی یہی معاملہ کیا جائے اور باقی گھر والے بھی کسی ہوا دار میدان میں چھپروں میں رکھے جائیں۔لیکن گورنمنٹ نے یہ ہدایت بھی تو شائع کی ہے کہ اگر اس بیمار کے تعہد کے لئے ایک دو قریبی اُس کے اُسی مکان میں رہنا چاہیں تو وہ رہ سکتے ہیں۔پس اس سے زیادہ گورنمنٹ اور کیا تدبیر کر سکتی تھی کہ چند آدمیوں کے ساتھ رہنے کی اجازت بھی دے دے۔اور اگر یہ شکایت ہو کہ کیوں اس گھر سے نکالا جاتا ہے اور باہر جنگل میں رکھا جاتا ہے تو یہ احمقانہ شکوہ ہے۔میں یقیناً اس بات کو سمجھتا ہوں کہ اگر گورنمنٹ ایسے خطرناک امراض میں مداخلت بھی نہ کرے تو خود ہر ایک انسان کا اپنا وہم وہی کام اس سے کرائے گا۔جس کام کو گورنمنٹ نے اپنے ذمہ لیا ہے۔مثلاً ایک گھر میں جب طاعون سے مرنا شروع ہوتو دو تین موتوں کے بعد گھر والوں کو ضرور فکر پڑے گا کہ اس منحوس گھر سے جلد نکلنا چاہیے اور پھر فرض کرو کہ وہ اس گھر سے نکل کر محلہ کے کسی اور گھر میں آباد ہوں گے اور پھر اس میں بھی یہی آفت دیکھیں گے تب ناچار اُن کو اُس شہر سے علیحدہ ہونا پڑے گا مگر یہ تو شرعاً بھی منع ہے کہ وبا کے شہر کا آدمی کسی دوسرے شہر میں جا کر آباد ہو یا بہ تبدیل الفاظ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ خدا کا قانون بھی کسی دوسرے شہر میں جانے سے روکتا ہے تو اس صورت میں بجز اس تدبیر کے جو گورنمنٹ نے پیش کی ہے کہ اُسی شہر کے کسی میدان میں وہ لوگ رکھے جائیں اور کونسی نئی اور عمدہ تدبیر ہے جو ہم نعوذ باللہ اس خوفناک وقت میں اپنی آزادگی کی حالت میں اختیار کر سکتے ہیں۔پس نہایت افسوس ہے کہ نیکی کے عوض بدی