مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 23 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 23

مجموعہ اشتہارات ۲۳ جلد دوم الہامی ہونے پر وہ ایمان رکھتا ہے وارد ہو سکتا ہو یعنی وہ امر جو بنا اعتراض کی ہے ان کتابوں میں بھی پایا جا تا ہو جن پر معترض کا ایمان ہے ایسے اعتراض سے چاہیے کہ ہر یک ایسا معترض پر ہیز کرے۔(۲) دوم اگر بعض کتابوں کے نام بذریعہ چھپے ہوئے اشتہار کے کسی فریق کی طرف سے اس غرض سے شائع ہو گئے ہوں کہ در حقیقت وہی کتا بیں ان کی مسلم اور مقبول ہیں تو چاہیے کہ کوئی معترض ان کتابوں سے باہر نہ جائے اور ہر یک اعتراض جو اس مذہب پر کرنا ہوا نہیں کتابوں کے حوالہ سے کرے اور ہر گز کسی ایسی کتاب کا نام نہ لیوے جس کے مسلّم اور مقبول ہونے کے بارے میں اشتہار میں ذکر نہیں اور اگر اس قانون کی خلاف ورزی کرے تو بلا تامل اس سزا کا مستوجب ہو جو دفعہ ۲۹۸ تعزیرات ہند میں مندرج ہے۔یہ التماس ہے جس کا پاس ہونا ہم بذریعہ کسی ایکٹ یا سرکلر کے گورنمنٹ عالیہ سے چاہتے ہیں اور ہماری زیرک گورنمنٹ اس بات کو بجھتی ہے کہ اس قانون کے پاس کرنے میں کسی خاص قوم کی رعایت نہیں بلکہ ہر یک قوم پر اس کا اثر مساوی ہے اور اس قانون کے پاس کرنے میں بے شمار برکتیں ہیں جن سے عامہ خلائق کے لئے امن اور عافیت کی راہیں کھلتی ہیں اور صد با بیہودہ نزاعوں اور جھگڑوں کی صف پیٹی جاتی ہے اور اخیر نتیجہ صلح کاری اور ان شرارتوں کا دور ہو جانا ہے جوفتنوں اور بغاوتوں کی جڑ ہوتے ہیں اور دن بدن مفاسد کو ترقی دیتے ہیں اور ہماری قلم جو ہر یک وقت اس گورنمنٹ عالیہ کی مدح و ثناء میں چل رہی ہے اس قانون کے پاس ہونے سے اپنی گورنمنٹ کو دوسروں پر ترجیح دینے کے لئے ایک ایسا وسیع مضمون پائے گی جو آفتاب کی طرح چمکے گا اور اگر ایسا نہ ہوا تو خدا معلوم کہ روز کی لڑائیوں اور بیہودہ جھگڑوں کی کہاں تک نوبت پہنچے گی۔بے شک اس سے پہلے تو ہین کے لئے دفعہ ۲۹۸ تعزیرات میں موجود ہے لیکن وہ ان مراتب کے تصفیہ پا جانے سے پہلے فضول اور لکھی ہے اور خیانت پیشہ لوگوں کے لئے گریز گاہ وسیع ہے۔اور پھر ہم اپنے مخالف فریقوں کی طرف متوجہ ہو کر کہتے ہیں کہ آپ لوگ بھی برائے خدا ایسی