مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 21
مجموعہ اشتہارات ۲۱ جلد دوم نظر آتا ہے۔ہم نے خود بعض منصف مزاج عیسائیوں سے خلوت میں سنا ہے کہ جب ہم کبھی مسیح کی خدائی کا بازاروں میں وعظ کرتے ہیں تو بعض وقت مسیح کے عجز اور اضطرار کی سوانح پیش نظر آجانے سے بات کرتے کرتے ایسا انفعال دل کو پکڑتا ہے کہ بس ہم ندامت میں غرق ہی ہو جاتے ہیں۔غرض انسان کو خدا بنانے والا کیا وعظ کرے گا اور کیونکر اس عاجز انسان میں اس قادر خدا کی عظمت کا نمونہ دکھائے گا جس کے حکم سے ایک ذرہ بھی زمین و آسمان سے باہر نہیں اور جس کا جلال دکھلانے کے لئے سورج چمکتا اور زمین طرح طرح کے پھول نکالتی ہے۔ایسا ہی ایک آریہ کیا وعظ کرے گا کیا وہ دانشمندوں کے سامنے یہ کہہ سکتا ہے کہ تمام روحیں اور ان کی قوتیں اور طاقتیں اپنے وجود کی آپ ہی خدا ہیں اور کسی کے سہارے سے ان کا وجود اور بقاء نہیں اور یا یہ کہہ سکتا ہے کہ وید کی یہ تعلیم عمدہ ہے کہ خاوند والی عورتیں اولاد کی غرض سے دوسروں سے ہم بستر ہو جایا کریں۔ابھی ہمیں تجربہ ہوا ہے کہ جب ہماری بعض جماعت کے لوگوں نے کسی آریہ یا ان کے پنڈت سے نیوگ کی حقیقت بازار میں پوچھی جہاں بہت سے آدمی موجود تھے تو وہ آریہ یا پنڈت شرمندہ ہوا اور چپکے سے کہا کہ آپ اندر چل کر مجھ سے یہ گفتگو کریں بازار میں لوگ سن کر ہنسی کرتے ہیں اب ظاہر ہے کہ جن لوگوں کا اپنا ہی یہ حال ہے کہ ایسے عقائد اور اعمال کی نسبت اپنا ہی کانشنس ان کا ان کے عقیدہ کو دھکے دیتا ہے اور قبول نہیں کرتا تو پھر وہ غیروں کو کیا وعظ کریں گے۔اس لئے مسلمانوں کو نہایت ہی گورنمنٹ کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ گورنمنٹ کے اس قانون کا وہی اکیلے فائدہ اٹھا رہے ہیں بیچارے پادری صد ہا روپیہ خرچ کر کے ایک ہندو کو قابو میں لاتے ہیں اور وہ آخر بعد آزمائش مسلمانوں کی طرف آ جاتا ہے اور یا صرف پیٹ کا بندہ ہو کر محض دنیوی لالچ سے انہیں میں گزارہ کرتا ہے لیکن ہمیں اپنے دلآزار ہمسایوں مخالفوں سے ایک اور شکایت ہے اگر ہم اُس شکایت کے رفع کے لئے اپنی محسن اور مہربان گورنمنٹ کو اس طرف توجہ نہ دلاویں تو کس کو دلاویں اور وہ یہ ہے کہ ہمارے مذہبی مخالف صرف بے اصل روایات اور بے بنیاد قصوں پر بھروسہ کر کے جو ہماری کتب مسلّمہ اور مقبولہ کی رو سے ہرگز ثابت نہیں ہیں بلکہ منافقوں کے مفتریات ہیں