مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 19 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 19

مجموعہ اشتہارات ۱۹ جلد دوم و پادری ٹھا کر داس و پادری فنڈل صاحب وغیرہ صاحبان اور آریہ صاحبوں میں سے منشی کنہیا لال الکھ دہاری اور منشی اندر من مراد آبادی اور لیکھرام پشاوری نے اپنا یہی اصول مقرر کر لیا کہ ناحق کے افتراؤں اور بے اصل روایتوں اور بے بنیاد قصوں کو واجبی اعتراضات کی مدافعت میں پیش کیا مگر اصل قصور تو اس میں پادری صاحبوں کا ہے کیونکہ ہندؤں نے اپنے ذاتی تعصب اور کینہ کی وجہ سے جوش تو بہت دکھلایا مگر براہِ راست اسلام کی کتابوں کو وہ دیکھ نہ سکے وجہ یہ کہ بباعث جہالت اور کم استعدادی دیکھنے کامادہ نہیں تھا سو انہوں نے اپنی کتابوں میں پادریوں کے اقوال کا نقل کر دینا غنیمت سمجھا۔غرض ان تمام لوگوں نے بے قیدی اور آزادی کی گنجائش پا کر افتراؤں کو انتہا تک پہنچا دیا اور ناحق بے وجہ اہل اسلام بقیہ حاشیہ۔اشاعت سے مانع آئے سو جنہوں نے اسلام پر تلواریں اٹھا ئیں وہ اپنی شوخیوں کی وجہ سے تلواروں سے ہی ہلاک کئے گئے اب اس صورت کی لڑائیوں پر اعتراض کرنا اور حضرت موسیٰ اور دوسرے اسرائیلی نبیوں کی ان لڑائیوں کو بھلا دینا جن میں لاکھوں شیر خوار بچے قتل کئے گئے کیا یہ دیانت کا طریق ہے یا ناحق کی شرارت اور خیانت اور فساد انگیزی ہے۔اس کے جواب میں حضرات عیسائی یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لڑائیوں میں بہت ہی نرمی پائی جاتی ہے کہ اسلام لانے پر چھوڑا جاتا تھا اور شیر خوار بچوں کو قتل نہیں کیا اور نہ عورتوں کو اور نہ بوڑھوں کو اور نہ فقیروں اور مسافروں کو مارا اور نہ عیسائیوں اور یہودیوں کے گر جاؤں کو مسمار کیا۔لیکن اسرائیلی نبیوں نے ان سب باتوں کو کیا یہاں تک کہ تین لاکھ سے بھی کچھ زیادہ شیر خوار بچے قتل کئے گئے گویا حضرات پادریوں کی نظر میں اس نرمی کی وجہ سے اسلام کی لڑائیاں قابل اعتراض ٹھہریں کہ ان میں وہ سختی نہیں جو حضرت موسیٰ اور دوسرے اسرائیلی نبیوں کی لڑائیوں میں تھی اگر اس درجہ کی سختی پر یہ لڑائیاں بھی ہوئیں تو قبول کر لیتے کہ درحقیقت یہ بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔اب ہر یک عقلمند کے سوچنے کے لائق ہے کہ کیا یہ جواب ایمانداری کا جواب ہے حالانکہ آپ ہی کہتے ہیں کہ خدارحم ہے اور اس کی سزا رحم سے خالی نہیں۔پھر جب موسیٰ کی لڑائیاں باوجود اس سختی کے قبول کی گئیں اور خدا تعالیٰ کی طرف سے ٹھہریں تو کیوں اور کیا وجہ کہ یہ لڑائیاں جو الہی رحم کی خوشبو ساتھ رکھتی ہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہ ہو ئیں اور ایسے لوگ کہ ان باتوں کو بھی خدا تعالیٰ کے احکام سمجھتے ہیں کہ شیر خوار بچے ان کی ماؤں کے سامنے ٹکڑے ٹکڑے کئے جائیں اور ماؤں کو ان کے بچوں کے سامنے بے رحمی سے مارا جاوے وہ کیوں ان لڑائیوں کو خدا تعالیٰ کی طرف سے نہ سمجھیں جن میں یہ شرط ہے کہ پہلے مظلوم ہو کر پھر ظالم کا مقابلہ کرو۔منه