مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 307
مجموعہ اشتہارات جلد دوم اور پنجابی اور پشتو میں تقریریں قلمبند ہو کر پڑھی گئیں۔اردو میں اس لئے کہ وہ عدالت کی بولی اور شاہی تجویز کے موافق دفتروں میں رواج یافتہ ہے اور عربی میں اس لئے کہ وہ خدا کی بولی ہے جس سے دنیا کی تمام زبانیں نکلیں اور جواُم الالسنہ اور دنیا کی تمام زبانوں کی ماں ہے جس میں خدا کی کتاب قرآن شریف خلقت کی ہدایت کے لئے آیا۔اور فارسی میں اس لئے کہ وہ گذشتہ اسلامی بادشاہوں کی یادگار ہے جنہوں نے اس ملک میں قریباً سات سو برس تک فرمانروائی کی۔اور انگریزی میں اس لئے کہ وہ ہماری جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند اور اس کے معزز ارکان کی زبان ہے جس کے عدل اور احسان کے ہم شکر گزار ہیں۔اور پنجابی میں اس لئے کہ وہ ہماری مادری زبان ہے جس میں شکر کرنا واجب ہے اور پشتو میں اس لئے کہ وہ ہماری زبان اور فارسی زبان میں ایک برزخ اور سرحدی اقبال کا نشان ہے۔اسی تقریب پر ایک کتاب شکر گذاری جناب قیصرہ ہند کے لئے تالیف کر کے اور چھاپ کر اس کا نام تحفہ قیصر یہ رکھا گیا اور چند جلدیں اس کی نہایت خوبصورت مجلد کرا کے اُن میں سے ایک حضرت قیصرہ ہند کے حضور میں بھیجنے کے لئے بخدمت صاحب ڈپٹی کمشنر بھیجی گئی اور ایک کتاب بحضور وائسرائے گورنر جنرل کشور ہند روانہ ہوئی اور ایک بحضور جناب نواب لفٹنٹ گورنر پنجاب بھیج دی گئی۔اب وہ دعا ئیں جو چھ زبانوں میں کی گئیں۔ذیل میں لکھی جاتی ہیں۔اور بعد اس کے اُن تمام دوستوں کے نام درج کئے جائیں گے جو تکالیف سفر اُٹھا کر اس جلسہ کے لئے قادیان میں تشریف لائے اور اس سخت گرمی میں اس خوشی کے جوش میں مشقتیں اُٹھا ئیں یہاں تک کہ بباعث ایک گروہ کثیر جمع ہونے کے اس قدر چار پائیاں نہ مل سکیں تو بڑی خوشی سے تین دن تک اکثر احباب زمین پر سوتے رہے۔جس اخلاص اور محبت اور صدق دل کے ساتھ میری جماعت کے معزز اصحاب نے اس خوشی کی رسم کو ادا کیا میرے پاس وہ الفاظ نہیں کہ میں بیان کرسکوں۔میں پہلے اپنے بیان میں یہ ذکر بھول گیا تھا کہ اس تقریب جلسہ میں ۲۲ جون ۱۸۹۷ء کو ہماری جماعت کے چار مولوی صاحبان نے اُٹھ کر عام لوگوں کو جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کی اطاعت اور کچی وفاداری کی ترغیب دی۔چنانچہ پہلے اخویم مولوی عبدالکریم صاحب نے اُٹھ کر اس بارے