مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 295
مجموعہ اشتہارات ۲۹۵ جلد دوم نے الہام کے ذریعہ فرمایا تھاوہی کہا تھا اور پھر ان تمام باتوں کے بعد گورنمنٹ برطانیہ کا بھی ذکر آیا اور جیسا کہ میرا قدیم سے عقیدہ ہے۔میں نے اس کو بار بار کہا کہ ہم اس گورنمنٹ سے دلی اخلاص رکھتے ہیں اور دلی وفادار اور دلی شکر گزار ہیں کیونکہ اس کے زیر سایہ اس قدر امن سے زندگی بسر کر رہے ہیں کہ کسی دوسری سلطنت کے نیچے ہرگز امید نہیں کہ وہ امن حاصل ہو سکے۔کیا میں اسلام بول میں امن کے ساتھ اس دعوی کو پھیلا سکتا ہوں کہ میں مسیح موعود اور مہدی معہود ہوں اور یہ کہ تلوار چلانے کی سب روایتیں جھوٹ ہیں۔کیا یہ سن کر اس جگہ کے درندے مولوی اور قاضی حملہ نہیں کریں گے۔اور کیا سلطانی انتظام بھی تقاضا نہیں کرے گا کہ اُن کی مرضی کو مقدم رکھا جائے۔پھر مجھے سلطان روم سے کیا فائدہ۔ان سب باتوں کو سفیر مذکور نے تعجب سے سنا اور حیرت سے میرا منہ دیکھتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے خط میں جو ناظم الہند ۱۵ رمئی ۱۸۹۷ء میں چھپا ہے۔میرا نام نمرود اور شداد اور شیطان رکھتا ہے اور مجھے جھوٹا اور مزور اور مورد غضب الہی قرار دیتا ہے۔لیکن یہ سخت گوئی اس کی جائے افسوس نہیں کیونکہ انسان نابینائی کی حالت میں سورج کو بھی تاریک خیال کر سکتا ہے۔اس کے لئے بہتر تھا کہ میرے پاس نہ آتا۔میرے پاس سے ایسی بدگوئی سے واپس جانا اُس کی سخت بد قسمتی ہے۔اور مجھے کچھ ضرور نہ تھا کہ میں اُس کی یاوہ گوئی کا ذکر کرتا مگر اُس نے بپاداش نیکی ہر ایک شخص کے پاس بدی کرنا شروع کیا اور بٹالہ اور امرت سر اور لاہور میں بہت سے آدمیوں کے پاس وہ دل آزار باتیں میری نسبت اور میری جماعت کی نسبت کہیں کہ ایک شریف آدمی با وجود اختلاف رائے کہ کبھی زبان پر نہیں لاسکتا۔افسوس کہ میں نے بہت شوق اور آرزو کے بعد گورنمنٹ روم کا نمونہ دیکھا تو یہ دیکھا۔اور میں مکرر ناظرین کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ مجھے اس سفیر کی ملاقات کا ایک ذرہ شوق نہ تھا بلکہ جب میں نے سُنا کہ لاہور کی میری جماعت اُس سے ملی ہے تو میں نے افسوس کیا اور اُن کی طرف ملامت کا خط لکھا کہ یہ کارروائی میرے منشاء کے خلاف کی گئی۔پھر آخر سفیر نے لاہور سے ایک انکساری خط میری طرف لکھا کہ میں ملنا چاہتا ہوں۔سو اس کے الحاج پر میں نے اس کو قادیان آنے کی اجازت دی۔لیکن اللہ جلشانہ، جانتا ہے جس پر جھوٹ باندھنا لعنت کا داغ خریدنا ہے کہ اس عالم الغیب نے مجھے پہلے