مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 278
مجموعہ اشتہارات ۲۷۸ جلد دوم (۲) دوسرے آپ کا دعوی ہے کہ نعوذ باللہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بد کار اور فاسق آدمی تھے اور باوانا تک صاحب آنجناب سے بیزار تھے اور آنحضرت کو بُرا کہا کرتے تھے۔مگر میں کہتا ہوں کہ یہ بالکل جھوٹ ہے۔بلکہ یہ باتیں اس وقت گرنتھوں میں ملائی گئی ہیں جبکہ سکھ مذہب میں بہت سا تعصب داخل ہو گیا تھا۔ورنہ با وا صاحب در حقیقت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ میں فدا تھے۔اب فیصلہ اس طرح پر ہو سکتا ہے کہ آپ اگر اپنے اس عقیدہ پر یقین رکھتے ہیں تو ایک مجلس عام میں اس مضمون کی قسم کھاویں کہ در حقیقت باوانا نک دین اسلام سے بیزار تھے۔اور پیغمبر اسلام علیہ السلام کو بُرا سمجھتے تھے اور نیز در حقیقت پیغمبر اسلام نعوذ باللہ فاسق اور بدکار تھے اور خدا کے سچے نبی نہیں تھے۔اور اگر یہ دونوں باتیں خلاف واقعہ ہیں تو اے قادر کرتار مجھے ایک سال تک اس گستاخی کی سخت سزا دے اور ہم آپ کی اس قسم پر پانسور و پیر ایک جگہ پر جہاں آپ کی اطمینان ہو جمع کرا دیتے ہیں۔پس اگر آپ در حقیقت بچے ہوں گے تو سال کے عرصہ تک آپ کے ایک بال کا نقصان بھی نہیں ہو گا بلکہ مفت پانسور و پیہ آپ کو ملے گا اور ہماری ذلت اور روسیا ہی ہوگی۔اور اگر آپ پر کوئی عذاب نازل ہو گیا تو تمام سکھ صاحبان درست ہو جائیں گے۔صحار میں جانتا ہوں کے سکھ صاحبوں کو اسلام سے ایک مناسبت ہے جو ہندوؤں کو نہیں۔اور وہ جلد آسمانی نشان کو سمجھ لیں گے۔آپ لوگ ہندوؤں کی طرح بزدل نہیں بلکہ ایک بہادر قوم ہیں۔اس لئے مجھے امید ہے کہ آپ اس طریق فیصلہ کو ضرور قبول کر لیں گے۔اول ایک اخبار میں حسب بیان مذکورہ بالا چھپوانا ہو گا کہ میں ایسی قسم کھانے کے لئے طیار ہوں اور پھر ہماری چھپی ہوئی تحریر پہنچنے کے بعد قادیان میں آکر جلسہ عام میں تین مرتبہ قسم کھانی ہوگی۔اب اس میں آپ زیادہ بیچ نہ ڈالیں۔اس بات کو منظور کر لیں ہمارے دل گالیاں سنتے سنتے زخمی لے یہ ضروری ہوگا کہ جس اخبار میں آپ یہ اقرار شائع کریں ایک پر چہ اس اخبار کا بذریعہ رجسٹری ہمارے پاس صار بھیج دیں اور ہم ذمہ وار ہوں گے کہ تین ہفتہ تک روز وصول اخبار سے آپ کے لئے پانسور و پیہ جمع کرا دیں بشرطیکہ آپ بلا کم و بیش حسب ہدایت ہمارے اشتہار کے اقرارات مطلوبہ کو اپنی طرف سے شائع کر دیں۔منہ