مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 231
مجموعہ اشتہارات ۲۳۱ جلد دوم اسی قدران پیشگوئیوں کو آسمانی اور بے لوث اور پاک پائے گی۔آخر یہ گورنمنٹ اہل کتاب ہے اور اس خدا سے منکر نہیں ہے جو پوشیدہ بھیدوں کو جانتا ہے اور آنے والے زمانہ کی ایسے طور سے خبر دے سکتا ہے کہ گویا وہ موجود ہے۔کیا چھ سال کی میعاد بیان کرنا اور عید کے دوسرے دن کا پتہ دینا اور صورتِ موت بیان کر دینا یہ خدا سے ہونا محال ہے؟ اگر خدا سے محال ہے تو ان قیدوں کے ساتھ انسان کی اپنی پیشگوئی کیونکر ممکن ہے۔کیا دور دراز عرصہ سے ایسی صحیح خبریں دینا انسان کا کام ہے؟ اگر ہے تو اس کی دنیا میں کوئی نظیر پیش کرو۔گورنمنٹ کو یہ فخر ہونا چاہیے کہ اس ملک میں اور اس کے زمانہ بادشاہت میں خدا اپنے بعض بندوں سے وہ تعلق پیدا کر رہا ہے کہ جو قصوں اور کہانیوں کے طور پر کتابوں میں لکھا ہوا ہے۔اس ملک پر رحمت ہے کہ آسمان زمین سے نزدیک ہو گیا ہے ورنہ دوسرے ملکوں میں اس کی نظیر نہیں۔یہ بھی ظاہر کر دینا ضروری ہے کہ مختلف مقامات پنجاب سے کئی خط میرے پاس پہنچے ہیں جن میں بعض آریہ صاحبوں کے جوشوں اور نامناسب منصوبوں کا تذکرہ ہے میرے پاس وہ خط بحفاظت موجود ہیں اور اس جگہ کے بعض آریہ کو میں وہ خط دکھلا دیئے ہیں۔چنانچہ ایک خط گوجرانوالہ سے ایک معزز اور رئیس کا مجھ کو پہنچا ہے اس کا مضمون یہ ہے کہ اس جگہ دو دن تک جلسہ ماتم لیکھر ام ہوتا رہا اور قاتل کے گرفتار کنندہ کے لیے ہزار روپیہ انعام قرار پایا ہے اور دوسو اس کیلے جونشاندہی کرے۔اور خارجائنا گیا ہے کہ ایک خفیہ انجمن آپ کے قتل کے لئے منعقد ہوئی ہے اور اس انجمن کے ممبر قریب قریب شہروں کے لوگ ( جیسے لاہور، امرتسر، بٹالہ، اور خاص گوجرنوالہ کے ہیں۔) منتخب ہوئے ہیں۔اور تجویز یہ ہے یہ میں ہزار روپیہ چندہ ہو کر کسی شریر طامع کو اس کام کے لئے مامور کریں تا وہ موقعہ پا کر قتل کر دے لیے چنانچہ دو ہزار روپیہ تک چندہ کا بندوبست ہو بھی گیا ہے۔باقی دوسرے شہروں اور لے یہی خبرا جمالاً پیسہ اخبار میں بھی لکھی ہے۔منہ ے براہین احمدیہ کا وہ الہام یعنی يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ جو سترہ برس سے شائع ہو چکا ہے اس کے اس وقت خوب معنے کھلے یعنی یہ الہام حضرت عیسی کو اس وقت بطور تسلی بھی ہوا تھا جب یہود اُن کے مصلوب کرنے کے لئے کوشش کر رہے تھے اور اس جگہ بجائے یہود، ہنود کوشش کر رہ ہیں۔اور الہام کے یہ معنے ہیں کہ میں تجھے ایسی ذلیل اور لعنتی موتوں سے بچاؤں گا۔دیکھو اس واقعہ نے عیسی کا نام اس عاجز پر کیسے چسپاں کر دیا ہے۔منہ