مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 144
مجموعہ اشتہارات ۱۴۴ جلد دوم برسانے کی قدرت بھی حاصل ہو جائے۔پس اس طرح پر وہ خدائی کا دعویٰ کرتے ہیں۔غرض یہ وہ امور ہیں جن کو حال کے مولوی نہیں سمجھتے اور اہل اسلام میں انہوں نے بڑا بھاری فتنہ اور تفرقہ ڈال رکھا ہے اور نہایت بیہودہ اور رکیک تاویلات سے نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ سے منہ پھیر رہے ہیں۔دعویٰ کرتے تھے کہ ہم اہل حدیث ہیں مگر اب تو انہوں نے قرآن کو بھی چھوڑا اور حدیث کو بھی۔سو جبکہ میں نے دیکھا کہ قرآن شریف اور حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کے دلوں میں عظمت نہیں اور جلیل الشان اکا بر ائمہ کی شہادت بھی جیسا کہ امام بخاری اور ابن حزم اور امام مالک کی شہادت جو حضرت عیسی کے فوت ہو جانے کی نسبت بار بار لکھی گئی ہے ان کے نزدیک کچھ چیز نہیں سو مجھ کو اس پہلو سے بکلی نومیدی ہوئی کہ وہ منقولی بحث و مباحثہ کے ذریعہ سے ہدایت پاسکیں لے پس خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ میں دوسرا پہلو اختیار کروں جو اصل بنیا د میرے دعوی کی ہے یعنی اپنے سچے لہم ہونے کا ثبوت کیونکہ اس میں کچھ شک نہیں کہ اگر وہ لوگ مجھے خدائے تعالیٰ کی طرف سے سچا ملہم سمجھتے اور میرے الہامات کو میرا ہی افتر ایا شیطانی وساوس خیال نہ کرتے تو اس قدرست اور شتم اور ہنسی اور ٹھٹھا اور تکفیر اور بد تہذیب کے ساتھ پیش نہ آتے بلکہ اپنے بہت سے ظنون فاسدہ کا حسن ظن کے غلبہ سے آپ فیصلہ کر لیتے کیونکہ کسی کی سچائی اور منجانب اللہ ہونے کے یقین کے بعد وہ مشکلات ہرگز پیش نہیں آتیں کہ جو اس حالت میں پیش آتی ہیں کہ انسان کے دل پر اس کے کاذب ہونے کا خیال غالب ہوتا ہے۔یہ سچ ہے کہ خدا تعالیٰ نے میری سچائی کے سمجھنے کے لئے بہت سے قرائن واضح ان کو عطا کئے تھے۔(۱) میرا دعویٰ صدی کے سر پر تھا۔(۲) میرے دعوے کے وقت میں کے حاشیہ۔منقولی بحث مباحثہ کی کتابیں جو میری طرف سے چھپی ہیں جن میں ثابت کیا گیا ہے جو درحقیقت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں اور دوبارہ آنا ان کا بطور بروز مراد ہے نہ بطور حقیقت وہ یہ ہیں۔فتح اسلام۔توضیح مرام - ازال ازالہ وہام۔اتمام الحجہ۔تحفہ بغداد - حمامۃ البشری - نور الحق دو حصہ۔کرامات الصادقین۔سر الخلافہ۔آئینہ کمالات اسلام۔