مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 138 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 138

مجموعہ اشتہارات ۱۳۸ جلد دوم اس الزام سے اپنے تئیں بری نہ کر سکا جو اس کے اقرار خوف اور بے ثبوت ہونے عذر حملوں سے اس پر وارد ہو چکا تھا۔یہاں تک کہ اس موت نے اس کو آ پکڑا جس سے وہ ڈرتا رہا اور ضرور تھا کہ وہ انکار کے بعد جلد مرتا۔کیونکہ خدائے تعالیٰ کی پاک پیش گوئیوں کے رو سے یہی سزا اس کے لئے ٹھہر چکی تھی۔سواس خدا سے خوف کرو جس نے آتھم کو بڑی سرگردانیوں کے گرداب میں ڈال کر آخر اپنے وعید کے موافق ہلاک کر دیا۔خدا کی کھلی کھلی پیشگوئیوں سے منہ پھیرنا یہ بدطینتوں کا کام ہے نہ نیک لوگوں کا۔اور جھوٹ کے مردار کو کسی طرح نہ چھوڑنا۔یہ کتوں کا طریق ہے نہ انسانوں کا۔میاں حسام الدین عیسائی لکھتے ہیں کہ آتھم چار دن تک بے ہوش رہا۔مگر وہ اس کا ستر نہیں بیان کر سکے کہ کیوں چار دن تک بے ہوش رہا۔سو جاننا چاہیے کہ یہ چار دن کی سخت جان کندن کے ان چار افتر اؤں کی اسی دنیا میں اس کو سزا دی گئی جو اس نے زہر خورانی کے اقدام کا افترا کیا۔سانپ چھوڑنے کا افترا کیا۔لودیا نہ اور فیروز پور کے حملہ کا افترا کیا اور عیسائیوں کے خوش کرنے کے لئے اصل وجہ خوف کو چھپایا۔سو عیسائیوں کے لئے اس سے زیادہ اور کوئی شرم کی جگہ نہیں کہ آتھم ان کے مذہب کے جھوٹا ہونے پر گواہی دے گیا۔اب اگر آتھم کی گواہی پر اعتبار نہیں تو اس نئے طریق سے دوبارہ حجت اللہ کو پورا کر لینا چاہیے۔اور اس نئے طریق میں کوئی شرط بھی نہیں۔سیدھی بات ہے کہ اگر باہم دعا کرنے کے بعد جس کے ساتھ فریقین کی طرف سے آمین بھی ہوگی۔میرے مقابل کا شخص ایک سال تک خدا تعالیٰ کے فوق العادت عذاب سے بچ گیا تو جیسا کہ میں لکھ چکا ہوں تاوان مذکورہ بالا ادا کروں گا۔اور میں حضرات پادری صاحبان کو دوبارہ یاد دلاتا ہوں کہ اس طرح کا طریق دعا ان کے مذہب اور اعتقاد سے ہرگز منافی نہیں اور حضرت یسوع صاحب نے باب ۲۳ آیت ۱۳ متنی میں خود اس طریق کو استعمال کیا ہے اور ویل کے لفظ سے فقیہوں اور فریسیوں پر بددعا کی ہے اب اگر عیسائی صاحبان کوئی اور لفظ استعمال کرنے سے تامل کریں تو ویل کے لفظ کو ہی استعمال کرنا تو خودان پر واجب ہے کیونکہ ان کے مرشد اور ہادی نے بھی یہی لفظ استعمال کیا ہے۔ویل کے معنی سختی اور لعنت اور ہلاکت کے ہیں۔سو ہم دونوں اس طرح پر دعا کریں گے کہ اے خدائے قادر اس وقت ہم بالمقابل دو فریق