مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 133
مجموعہ اشتہارات ۱۳۳ جلد دوم کرو۔قرآن کے رو سے یہ بدمعاشوں کا طریق ہے نہ نیکوں کا۔لیکن توریت نے یہ فرق کسی جگہ کھول کر بیان نہیں فرمایا اس سے ظاہر ہے کہ قرآن شریف اپنے جلالی اور جمالی احکام میں اس خط مستقیم عدل اور انصاف اور رحم اور احسان پر چلتا ہے جس کی نظیر دنیا میں کسی کتاب میں موجود نہیں مگر اندھے دشمن پھر بھی اعتراض کرتے ہیں کیونکہ ان کی فطرت روشنی سے عداوت اور ظلمت سے محبت رکھتی ہے۔اب اس اشتہار کی تحریر سے یہ غرض ہے کہ ہم نے بڑے لمبے تجربہ سے آزما لیا ہے کہ یہ لوگ بار بار ملزم اور لا جواب ہو کر پھر بھی نیش زنی سے باز نہیں آتے اور اس شخص کو تمام عیبوں سے مبتر اسمجھتے ہیں جس نے خود اقرار کیا کہ میں نیک نہیں اور جس نے شراب خواری اور قمار بازی اور کھلے طور پر دوسروں کی عورتوں کو دیکھنا جائز رکھ کر بلکہ آپ ایک بد کار کنجری سے اپنے سر پر حرام کی کمائی کا تیل ڈلوا کر اور اس کو یہ موقعہ دے کر کہ وہ اس کے بدن سے بدن لگا دے اپنی تمام امت کو اجازت دے دی کہ ان باتوں میں سے کوئی بات بھی حرام نہیں۔سو ایسے شخص کو تو انہوں نے خدا بنالیا مگر خدا کے مقدس نبیوں کو جن کی زندگی محض خدا کے لئے تھی اور جو تقویٰ کی باریک راہوں کو سکھا گئے بُرا کہنا اور گالیاں دینا شروع کر دیا چنانچہ اب تک یہ لوگ باز نہیں آئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو میں نہایت نا پاک اور رنج دو تھیٹر نکالتے ہیں اور نہایت بُری تصویروں میں اس پاک وجود کو دکھلاتے ہیں۔اب ایسے کذابوں سے زبانی مباحثات سے کیونکر فیصلہ ہو۔ہم جھوٹے کو دندان شکن جواب سے ملزم تو کر سکتے ہیں مگر اس کا منہ کیونکر بند کریں اس کی پلید زبان پر کونسی تھیلی چڑھا دیں؟ اس کے گالیاں دینے والے منہ پر کونا قفل لگا ویں؟ کیا کریں؟ کیا کوئی اس سے بے خبر ہے کہ نالائق عمادالدین نے اس پاک ذات نبی کی نسبت کیا کیا گندے الفاظ استعمال کئے جس سے تمام مسلمانوں کے کلیجے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔نور افشاں پر چہ اود یا نہ میں کیسے کیسے ہفتہ وار محض افترا کی بنیاد پر تو ہین اسلام کے کلمات لکھے جارہے ہیں۔ریواڑی والے پادری نے کس قدر مسلمانوں کا دل جلایا اور ہمارے سیدومولی کوڈا کو اور رہزن قرار دیا۔غرض کہاں تک لکھیں ان ظالم پادریوں نے لاکھوں گالیاں ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے کر ہمارے دلوں کو زخمی کر دیا۔