مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 58
سیکھا تھا یا کبھی کسی فلسفی اور منطقی سے اُن کی صحبت اور مخالطت رہی تھی کہ جس کے اثر سے انہوں نے ہر یک اصول حقّہ پر دلائلِ فلسفہ قائم کرکے تمام عقائد مدارِ نجات کی حقیقی سچائی کو ایسا کھول دیا کہ جس کی نظیر صفحۂ روزگار میں کہیں نہیں پائی جاتی یہ ایسا کام ہے کہ بجز تائیدِ الٰہی اور الہامِ ربّانی کے ہرگز کسی سے انجام پذیر نہیں ہوسکتا پس ناچار عقل اِس بات پر قطع واجب کرتی ہے جو قرآنِ شریف اُس خدائے واحد لاشریک کی کلام ہے کہ جس کے علم کے ساتھ کسی انسان کا علم برابر نہیں۔یہ دلیل ہے جو ہم نے بطور نمونہ کے اُن دلائل مرکبہ میں سے لکھی ہے کہ جن کا مجموعۂ اجزا تمام ایسی جزؤں سے مُرکّب ہے کہ وہ سب جُزیں دلائل ہی ہیں چنانچہ اس دلیل کے اجزا سب کے سب وہ دلائل ہیں جو عقائدِ حقّہ پر قائم کی گئی ہیں اور چونکہ یہ دلیل بھی اصنافِ دلائل میں سے ایک صِنف ہے اس لئے جیسا کہ مخاصم پر تمام اصنافِ دلائل کا پیش کرنا فرض ہے اِسی لئے اس دلیل کا بھی پیش کرنا فرض ہے مگر اس دلیل کودکھلانے کے لئے ان تمام دلائل کا دکھلانا بھی ضروری ہے کہ جن سے اس دلیل کی تالیف اور ترکیب ہے اور جن کی ہیئت اجتماعی سے اس کا وجود تیار ہوتا ہے جیسی دلیل اثباتِ وجودِ صانع، دلیلِ اثباتِ توحید، دلیلِ اثباتِ خالقیت باری تعالیٰ وغیرہ وغیرہ کیونکہ یہی دلائل اس دلیل کی اجزا ہیں اور وجود کُل کا بغیر وجود اجزا کے ممکن نہیں اور نہ تحصّل کسی ماہیت کا بدوں اس کی جزوں کے