مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 56
حاصل نہ ہو اور و جہ اس تفاوت کی یہ ہے جو کل مجموعی اور کل واحد ہمیشہ متخالف فی الاحکام ہوتے ہیں جیسے ایک بوجھ کو دس آدمی اکٹھے ہوکر اٹھا سکتے ہیں اور اگر وہی دس آدمی ایک ایک ہوکر اٹھانا چاہیں تو یہ امر محال ہوجاتا ہے۔اور ہر واحد اِن دونوں قسم کی دلائلِ بسیطہ اور مرکّبہ سے جب اپنی خاص خاص صورتوں اور ہیئتوں اور وضعوں کے لحاظ سے تصور کئے جائیں تو ان کا نام اس کتاب میںاصناف دلائل ہے۔اور یہ وہی اصناف ہیں کہ جن کے التزام کے لئے ہم نے صدرِ اشتہار ہذا میں یہ قید لگا دی ہے جو ہر صنف کے براہین میں سے شخص مُتصدی مقابلہ فرقان مجید کا نصف یا ثُلث یا رُبع یا خُمس پیش کرے یعنی اِس صورت میں کہ جب ان کُل دلائل کے پیش کرنے سے عاجز ہو جو ایک صنف کے تحت میں داخل ہیں۔اور نیز اس جگہ یہ امر زیادہ تر قابل انکشاف ہے کہ جو صاحب کسی دلیل مرکب کا جس کی تعریف ابھی ہم بیان کرچکے ہیں اپنی کتاب میں سے نمونہ دکھلانا چاہیں تو اُن پر واجب ہوگا کہ اگر وہ دلیل مرکب ایسی مجموعہ اجزا سے مرکب ہو جو ہر یک جز اس کا بجائے خود کسی امر پر دلیل ہو تو ان سب جزوی دلائل کا بھی کم سے کم ایک ایک نمونہ پیش کرنا ہوگا۔چونکہ سمجھنا اس شرط کا محتاج تمثیل ہے اس لئے ہم بطور تمثیل کے اِس جگہ