مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 587
کوئی دوسرا پہلو ایمان لانے کا قوم کو بتلایا ہوتا تو وہ میدان میں ایسی درد ناک صورت اپنی نہ بناتے بلکہ شرط کے ایفاء پر عذاب ٹل جانے کے وعدہ پر مطمئن ہوتے ایسا ہی اگر حضرت یونس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے علم ہوتا کہ ایمان لانے سے عذاب ٹل جائے گا تو وہ کیوں کہتے کہ اب میں اس قوم کی طرف نہیں جائوں گا کیونکہ میں ان کی نظر میں کذّاب ٹھہر چکا جبکہ وہ سن چکے تھے کہ قوم نے توبہ کی اور ایمان لے آئی پس اگر یہ شرط بھی ان کی وحی میں داخل ہوتی تو ان کو خوش ہونا چاہیے تھا کہ پیشگوئی پوری ہوئی نہ یہ کہ وہ وطن چھوڑ کر ایک بھاری مصیبت میں اپنے تئیں ڈالتے قرآن کا لفظ لفظ اسی پر دلالت کررہا ہے کہ وہ سخت ابتلا میں پڑے اور حدیث نے کیفیت ابتلا کی یہ بتلائی پس اب بھی اگر کوئی شیخ و شاب منکر ہو تو یہ صریح اس کی گردن کشی ہے۔اور ہم اس مضمون کو اس پر ختم کرتے ہیں کہ اگر ہم سچے ہیں تو خدا تعالیٰ ان پیشگوئیوں کو پورا کر دے گا اور اگر یہ باتیں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں تو ہمارا انجام نہایت بدہوگا اور ہرگز یہ پیشگوئیاں پوری نہیں ہوں گی۔۔۱؎ اور میں بالآخر دعا کرتا ہوں کہ اے خدائے قادر و علیم اگر آتھم کا عذاب مہلک میں گرفتار ہونا اور احمد بیگ کی دختر کلاں کا آخر اس عاجز کے نکاح میں آنا یہ پیشگوئیاں تیری طرف سے ہیں تو ان کو ایسے طور پر ظاہر فرما جو خلق اللہ پر حجت ہو اور کور باطن حاسدوں کا منہ بند ہو جائے۔اور اگر اے خداوند یہ پیشگوئیاں تیری طرف سے نہیں ہیں تو مجھے نامرادی اور ذلت کے ساتھ ہلاک کر اگر میں تیری نظر میں مردود اور ملعون اور دجال ہی ہوں جیسا کہ مخالفوں نے سمجھا ہے اور تیری وہ رحمت میرے ساتھ نہیں جو تیرے بندہ ابراہیم کے ساتھ اور اسحاق کے ساتھ اور اسمٰعیل کے ساتھ اور یعقوب کے ساتھ اور موسیٰ کے ساتھ اور دائود کے ساتھ اور مسیح ابن مریم کے ساتھ اور خیر الانبیاء محمد صلعم کے ساتھ اور اس امت کے اولیاء کرام کے ساتھ تھی تو مجھے فنا کر ڈال اور ذلتوں کے ساتھ مجھے ہلاک کر دے اور ہمیشہ کی لعنتوں کا نشانہ بنا اور