مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 584 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 584

کی تفسیر دُرّ منثور سور ہ انبیاء۔قال اخرج ابن ابی حاتم عن ابن عباس قال لما دعا یونس علی قومہ اوحی اللّٰہ الیہ ان العذاب یصبحھم۔۔۔۔۔فلما رأوہ جاروا الی اللّٰہ و بکی النساء والولدان ورغت الا بل وفصلانہا وخارت البقر وعجاجیلہا ولغت الغنم و سخالہا فرحمھم اللّٰہ وصرف ذلک العذاب عنھم وغضب یونس وقال کُذِبْتُ فھو قولہ اذ ذھب مغاضبًا۔یعنی ابن ابی حاتم نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ جبکہ یونس نے اپنی قوم پر بددعا کی سو خدا تعالیٰ نے اس کی طرف وحی بھیجی کہ صبح ہوتے ہی عذاب نازل ہوگا پس جبکہ قوم نے عذاب کے آثار دیکھے تو خدا تعالیٰ کی طرف تضرع کیا اور عورتیں اور بچے روئے اور اونٹنیوں نے ان کے بچوں کے سمیت اور گائیوں نے ان کے بچھڑوں کے سمیت اور بھیڑ بکری نے ان کے بُزغالوں کے سمیت خوف کھا کر شور مچایا۔پس خدا تعالیٰ نے ان پر رحم کیا اور عذاب کو ٹال دیا اور یونس غضب ناک ہوا کہ مجھے تو عذاب کا وعدہ دیا گیا تھا یہ قطعی وعدہ کیوں خلاف واقعہ نکلا۔پس یہی اس آیت کے معنے ہیں کہ یونس غضبناک ہوا۔اب دیکھو کہ یہاں تک یونس پر ابتلا آیا کہ کُذِبْتُ اس کے منہ سے نکل گیا یعنی مجھ پر کیوں ایسی وحی نازل ہوئی جس کی پیشگوئی پوری نہ ہوئی اگر کوئی شرط اس وعدہ کے ساتھ ہوتی تو یونس باوجودیکہ اس کو خبر پہنچ چکی تھی کہ قوم نے حق کی طرف رجوع کر لیا کیوں یہ بات منہ پر لاتا کہ میری پیشگوئی خلاف واقعہ نکلی۔اور اگر کہو کہ یونس کو ان کے ایمان اور رجوع کی خبر نہیں پہنچی تھی اور اس وہم میں تھا کہ باوجود کفر پر باقی رہنے کے عذاب سے بچ گئے اِس لئے اُس نے کہا کہ میری پیشگوئی خلاف واقعہ نکلی سو اس کا دندان شکن جواب ذیل میں لکھتا ہوں جو سیوطی نے زیر آیت وان یونس الخ لکھا ہے قال واخرج ابن جریر وابن ابی حاتم عن ابن عباس قال بعث اللّٰہ یونس الی اھل قریۃ فردوا علیہ فامتنعوا منہ فلما فعلوا ذلک اوحی اللّٰہ الیہ انی مرسل علیھم العذاب فی یوم کذا وکذا فخرج من بین اظھرھم فاعلم قومہ الذی وعدھم اللّٰہ من عذابہ ایاھم … فلما کانت اللیلۃ التی وعد العذاب فی صبیحتہا فراٰہ القوم