مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 506
سے عظمت اسلامی کو قبول کیا اور یہ حالت ایک رجوع کرنے کی قسم ہے جو الہام کے استثنائی فقرہ سے کسی قدر تعلق رکھتی ہے کیونکہ جو شخص عظمت اسلامی کو رد نہیں کرتا بلکہ اس کا خوف اس پر غالب ہوتا ہے وہ ایک طور سے اسلام کی طرف رجوع کرتا ہے اور اگرچہ ایسا رجوع عذاب آخرت سے بچا نہیں سکتا مگر عذاب دنیوی میں بے باکی کے دنوں تک ضرور تاخیر ڈال دیتا ہے یہی وعدہ قرآن کریم اور بائبل میں موجود ہے اور جو کچھ ہم نے مسٹر عبد اللہ آتھم کی نسبت اور اس کے دل کی حالت کے بارہ میں بیان کیا یہ باتیں بے ثبوت نہیں بلکہ مسٹر عبد اللہ آتھم نے اپنے تئیں سخت مصیبت زدہ بناکر اور اپنے تئیں شداید غربت میں ڈال کر اور اپنی زندگی کو ایک ماتمی پیرایہ پہنا کر اور ہر روز خوف اور ہر اس کی حرکات صادر کر کے اور ایک دنیا کو اپنی پریشانی اور دیوانہ پن دکھلا کر نہایت صفائی سے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ اس کے دل نے اسلامی عظمت اور صداقت کو قبول کر لیا۔کیا یہ بات جھوٹ ہے کہ اس نے پیشگوئی کے رعب ناک مضمون کو پورے طور پر اپنے پر ڈال لیا اور جس قدر ایک انسان ایک سچی اور واقعی بلا سے ڈر سکتا ہے اسی قدر وہ اس پیشگوئی سے ڈرا اس کا دل ظاہری حفاظتوں سے مطمئن نہ ہو سکا اور حق کے رعب نے اس کو دیوانہ سا بنا دیا سوخدا تعالیٰ نے نہ چاہا کہ اس کو ایسی حالت میں ہلاک کرے کیونکہ یہ اس کے قانون قدیم اور سنت قدیمہ کے مخالف ہے۔اور نیز یہ الہامی شرط سے مغائر اور برعکس ہے اور اگر الہام اپنی شرائط کو چھوڑ کر اور طور پر ظہور کرے تو گو جاہل لوگ اس سے خوش ہوں مگر ایسا الہام الہام الٰہی نہیں ہو سکتا اور یہ غیر ممکن ہے کہ خدا اپنی قرار دادہ شرطوں کو بھول جائے کیونکہ شرائط کا لحاظ رکھنا صادق کے لئے ضروری ہے اور خدا اصدق الصادقین ہے۔ہاں جس وقت مسٹر عبد اللہ آتھم اس شرط کے نیچے سے اپنے تئیں باہر کرے اور اپنے لئے اپنی شوخی اور بے باکی سے ہلاکت کے سامان پیدا کرے تو وہ دن نزدیک آجائیں گے اور سزائے ہاویہ کامل طور پر نمودار ہوگی اور پیشگوئی عجیب طور پر اپنا اثر دکھائے گی۔اور توجہ سے یاد رکھنا چاہیے کہ ہاویہ میں گرائے جانا جو اصل الفاظ الہام ہیں وہ عبد اللہ آتھم نے اپنے ہاتھ سے پورے کئے اور جن مصائب میں اس نے اپنے تئیں ڈال لیا اور جس طرز سے