مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 497 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 497

گذرا۔بہرحال اگر ہم رعایت اور چشم پوشی کے طور پر آپ کا منشی ہونا مان بھی لیں اور فرض کر لیں کہ آپ منشی ہیں گو منشیانہ لیاقتیں آپ میں پائی نہیں جاتیںتو چنداںحرج نہیں کیونکہ منشی گری کو ہمارے دین سے کچھ تعلق نہیں لیکن ہم کسی طرح مولوی کا خطاب ایسے نادانوں کو دے نہیں سکتے جن کو ہم پانچ ہزار روپیہ تک انعام دینا کریں تب بھی اُن کی مردہ روح میں کچھ قوت مقابلہ ظاہر نہ ہو ہزار لعنت کی دھمکی دیں کچھ غیرت نہ آوے تمام دنیا کو مددگار بنانے کے لئے اجازت دیں تب بھی ایک جھوٹے منہ سے بھی ہاں نہ کہیں ایسے لوگوں کو اگر مولوی کا لقب دیا جاوے تو کیا بجز مسلمانوں کے کافر بنانے کے کچھ اور بھی ان میں لیاقت ہے۔ہرگز نہیں۔چار حدیثیں پڑھ کرنام شیخ الکل‘ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ فِتَنِ ھٰذَا الدَّھْرِ وَ اَھْلِھَا وَنَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ جَھَلَاتِ الْجَاھِلِیْنَ۔یہ بھی واضح رہے کہ ہر یک باحیا دشمن اپنی دشمنی میں کسی حد تک جا کر ٹھہر جاتا ہے اور ایسے جھوٹوں کے استعمال سے اُس کو شرم آ جاتی ہے جن کی اصلیت کچھ بھی نہ ہو۔مگر افسوس کہ شیخ صاحب نے کچھ بھی اس انسانی شرم سے کام نہیں لیا جہاں تک ضرر رسانی کے وسائل اُن کے ذہن میں آئے انہوں نے سب استعمال کئے اور کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا۔اوّل تو لوگوں کو اٹھایا کہ یہ شخص کافر ہے اور دجال ہے اس کی ملاقات سے پرہیز کرو اور جہاں تک ہو سکے اس کو ایذا ء دو اور ہر یک ظلم سے اس کو دکھ دو سب ثواب کی بات ہے۔اور جب اس تدبیر میں ناکام رہے تو گورنمنٹ انگریزی کو مشتعل کرنے کے لئے کیسے کیسے جھوٹ بنائے کیسے کیسے مفتریات سے مدد لی لیکن یہ گورنمنٹ دور اندیش اور مردم شناس گورنمنٹ ہے۔سکھوں کے قدم پر نہیں چلتی کہ دشمن اور خود غرض کے منہ سے ایک بات سن کر افروختہ ہو جائے بلکہ اپنی خداداد عقل سے کام لیتی ہے۔سو گورنمنٹ دانشمند نے اس شخص کی تحریروں پر کچھ توجہ نہ کی اور کیونکر توجہ کرتی اس کو معلوم تھا کہ ایک خود غرض دشمن نفسانی جوش سے جھوٹی مخبری کر رہا ہے۔گورنمنٹ کو اس عاجز کے خاندان کے خیر خواہ ہونے پر بصیرت کامل تھی اور گورنمنٹ خوب جانتی تھی کہ یہ عاجز عرصہ چودہ سال سے برخلاف ان تمام مولویوں کے بار بار یہ مضمون شائع کر رہا ہے کہ ہم لوگ جو گورنمنٹ برطانیہ کی رعیت ہیں ہمارے لئے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے