مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 425 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 425

ہوگئے، لیکن ساتھ اس کے ذرّہ انصاف سے یہ بھی سوچنا چاہیے کہ کیا وہ لوگ کتاب کے دیکھنے سے بکلی محروم گئے۔اور کیا انہوں نے ۳۶ جزو کی کتاب پُر از حقایق و معارف نہیں دیکھ لی۔اور یہ بھی سوچنا چاہیے تھا کہ تما م دنیا کا مقابلہ کرنا کیسا مشکل امر ہے۔اور کس قدر مشکلات کا ہمیں سامنا پیش آ گیا ہے۔اور جو کچھ زمانہ کی حالت موجودہ اپنے روز افزوں فساد کی وجہ سے جدید در جدید کوششیں ہم پر واجب کرتی جاتی ہے، وہ کس قدر زمانہ کو چاہتی ہیں۔ماسوا اس کے ایسے بدظن خریدار اگر چاہیں تو خود بھی سوچ سکتے ہیں کہ کیا ان کے پانچ یا دس روپیہ لے کر اُن کو بکلّی کتاب سے محروم رکھا گیا، کیا ان کو کتاب کی وہ ۳۶ جزو نہیں پہنچ چکیں جو بہت سے حقایق و معارف سے پُر ہیں۔کیا یہ سچ نہیں کہ براہین کا حصہ جس قدر طبع ہو چکا وہ بھی ایک ایسا جواہرات کا ذخیرہ ہے کہ جو شخص اﷲجَلَّ شَانُـہٗ اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہو بلاشبہ اس کو اپنے پانچ یا دس روپیہ سے زیادہ قیمتی اور قابلِ قدر سمجھے گا۔مَیں یقینا یہ بات کہتا ہوں اور میرا دل اس یقین سے بھرا ہوا ہے کہ جس طرح میں نے محض اﷲ جَلَّ شَانُـہٗ کی توفیق اور فضل اور تائید سے براہین کے حصص موجودہ کی نثر اور نظم کو جو دونوں حقایق اور معارف سے بھری ہوئی ہیں تالیف کیا ہے۔اگر حال کے بدظن خریدار اُن مُلّائوں کو جنہوں نے تکفیر کا شور مچا رکھا ہے اس بات کے لیے فرمایش کریں کہ وہ اسی قدر نظم اور نثر جس میں زندگی کی رُوح ہو اور حقایق معارف بھرے ہوئے ہوں دس برس تک تیار کر کے ان کو دیں اور اسی قدر کی پچاس پچاس روپیہ قیمت لیں تو ہرگز اُن کے لیے ممکن نہ ہو گا۔اور مجھے اﷲ جَلَّ شَانُـہٗ کی قسم ہے کہ جو نُور اور برکت اس کتاب کی نثر اور نظم میں مجھے معلوم ہوتی ہے۔اگر اس کا مؤلف کوئی اور ہوتا اور میں اس کے اسی قدر کو ہزار روپیہ کی قیمت پر بھی خریدتا تو بھی مَیں اپنی قیمت کو اس کے ان معارف کے مقابل پر جو دلوں کی تاریکی کو دور کرتی ہیں، ناچیز اور حقیر سمجھتا۔اس بیان سے اس وقت صرف مطلب یہ ہے کہ اگرچہ یہ سچ ہے کہ بقیہ کتاب کے دینے میں معمول سے بہت زیادہ توقف ہوا لیکن بعض خریداروں کی طرف سے بھی یہ ظلم صریح ہے کہ انہوں نے اس عجیب کتاب کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا اور ذرا خیال نہیں کیا کہ ایسی اعلیٰ درجہ کی تالیفات میں کیا کچھ مؤلفین کو خون جگر کھانا پڑتا ہے اور کس طرح موت