مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 414 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 414

 شیخ محمد حسین صاحب بٹالوی آپ کا خط ۱؎ دوسری شوال ۱۳۱۰ھ کو مجھ کو ملا۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَالْمِنَّۃِ کہ آپ نے میرے اشتہار مورخہ ۳۰؍ مارچ ۱۸۹۳ء کے جواب میں بذریعہ اپنے خط ۱۸؍ اپریل ۱۸۹۳ء کے مجھ کو مطلع کیا کہ میں بالمقابلہ عربی عبارت میں تفسیر قرآن لکھنے کو حاضر ہوں۔خاص کر مجھے اس سے بہت ہی خوشی ہوئی کہ آپ ۱؎ (لاہور ۱۸؍ اپریل ۱۸۹۳ء) غلام احمد قادیانی تمہارے چند اوراق کتاب وساوس کے ہمدست عزیزم مرزا خدا بخش اور دو رجسٹرڈ خط موصول ہوئے۔(۱) مَیں تمہاری اس کتاب کا جواب لکھنے میں مصروف تھا، اس لیے تمہارے خطوط کے جواب میں توقف ہوا۔اب اس سے فارغ ہوا ہوں تو جواب لکھتا ہوں۔(۲) میں تمہاری ہر ایک بات کی اجابت کیلئے مستعد ہوں۔مباہلہ ۱ کے لیے طیار ہوں۔بالمقابلہ ۲ عربی عبارت میں تفسیرِ قرآن لکھنے کو بھی حاضر ہوں۔میری۳ نسبت جو تم کو منذر الہام ہوا ہے اس کی اشاعت کی اجازت دینے کو بھی مستعد ہوں، مگر ہر ایک بات کا جواب و اجابت رسالہ میں چھاپ کر مشتہر کرنا چاہتا ہوں۔جو انہیں باقی ماندہ ایّام اپریل میں ہوگا۔انشاء اللہ تعالیٰ۔(۳) تمہارا سابق تحریرات میں یہ قید لگانا کہ دو ہفتہ میں جواب آوے اور آخری خط میں یہ لکھنا کہ ۲۰؍ اپریل تک جواب ملے ورنہ گریز مشتہر کیا جائے گا۔کمال درجہ کی خفت و وقاحت ہے۔اگر بعد اشتہار انکار ادھر سے اجابت کا اشتہار ہوا تو پھر کون شرمندہ ہو گا؟ (۴) ہماری طرف سے جو جواب خط نمبری ۲۱۔مورخہ ۹؍ جنوری ۱۸۹۳ء کے لیے ایک ماہ کی میعاد مقرر ہوئی تھی۔اس کا لحاظ تم نے یہ کیا کہ تیسرے مہینے کے اَخیر میں جواب دیا۔پھر اپنی طرف سے یہ حکومت کہ جواب دو ۲ ہفتہ یا ۲۰؍ اپریل تک آوے۔کیوں موجب شرم نہ ہوئی۔تم نے اپنے آپ کو کیا سمجھا ہے؟ او ر اس حکومت کی کیا وجہ ہے۔جن پر تم حکومت کرتے ہو