مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 368 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 368

قبول نہیں کیا اور نہ اپنی شوخی اور بد زبانی کو چھوڑا آخر ہم نے پورے پورے اتمام حجت کی غرض سے یہ اشتہار آج لکھا ہے جس کا مختصر مضمون ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔صاحبو! تمام اہل مذاہب جو سزا جزا کو مانتے ہیں اور بقاء روح اور روز آخرت پر یقین رکھتے ہیں اگرچہ صدہا باتوں میں مختلف ہیں مگر اس کلمہ پر سب اتفاق رکھتے ہیں جو خدا موجود ہے۔اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اُسی خدا نے ہمیں یہ مذہب دیا ہے اور اسی کی یہ ہدایت ہے جو ہمارے ہاتھ میں ہے اور کہتے ہیں کہ اس کی مرضی پر چلنے والے اور اس کے پیارے بندے صرف ہم لوگ ہیں اور باقی سب مورد غضب اور ضلالت کے گڑھے میں گرے ہوئے ہیں جن سے خدا تعالیٰ سخت ناراض ہے۔پس جب کہ ہریک کا دعویٰ ہے کہ میری راہ خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق ہے اور مدار نجات اور قبولیت فقط یہی راہ ہے و بس اور اسی راہ پر قدم مارنے سے خدا تعالیٰ راضی ہوتا ہے اور ایسوں سے ہی وہ پیار کرتا ہے اور ایسوں کی ہی وہ اکثر اور اغلب طور پر باتیں مانتا ہے اور دعائیں قبول کرتا ہے تو پھر فیصلہ نہایت آسان ہے اور ہم اس کلمہ مذکورہ میں ہریک صاحب کے ساتھ اتفاق کرتے ہیں ہمارے نزدیک بھی یہ سچ ہے کہ سچے اور جھوٹے میں اسی دنیا میں کوئی ایسا مابہ الامتیاز قائم ہونا چاہیے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہو یوں تو کوئی اپنی قوم کو دوسری قوموں سے خدا ترسی اور پرہیزگاری اور توحید اور عدل اور انصاف اور دیگر اعمال صالحہ میں کم نہیں سمجھے گا پھر اس طور سے فیصلہ ہونا محال ہے اگرچہ ہم کہتے ہیں کہ اسلام میں وہ قابل تعریف باتیں ایک بے نظیر کمال کے ساتھ پائی جاتی ہیں جن سے اسلام کی خصوصیت ثابت ہوتی ہے مثلاً جیسے اسلام کی توحید اسلام کے تقویٰ اسلام کے قواعد حفظان عفت حفظان حقوق جو عملاً و اعتقاداً کروڑہا افراد میں موجود ہیں اور اس کے مقابل پر جو کچھ ہمارے مخالفوں کی اعتقادی اور عملی حالت ہے وہ ایسی شے ہے جو کسی منصف سے پوشیدہ نہیں لیکن جبکہ تعصب درمیان ہے تو اسلام کی ان خوبیوں کو کون قبول کرسکتا ہے اور کون سن سکتا ہے سو یہ طریق نظری ہے اور نہایت بدیہی طریق جو دیہات کے ہل چلانے والے اورجنگلوں کے خانہ بدوش بھی اس کو سمجھ سکتے ہیں یہ ہے کہ اس جنگ و جدل کے وقت میں جو تمام مذاہب میں ہورہا ہے اور اب کمال کو پہنچ گیا ہے اسی