مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 339
گئے کیونکہ شیخ صاحب موصوف نے ہمدردی قوم کے لحاظ سے بہت سا اپنی قیمتی وقت اس مصالحت کی انجام دہی میں خرچ کیا اور کوشش بلیغ فرمائی۔مصالحت کرانے والوںنے مسودہ مجوزہ کو پسند فرما کہ کہا کہ یہ مسودہ اب کسی طرح قابل اعتراض نہیں۔البتہ اس میں لفظ لعنت ثقیلہے اس کو کسی طرح بدل دیا جاوے۔راقم نے اس پر بھی رضامندی ظاہر کی اور بجائے لفظ لعنت کے مسودہ کی صورت حسب ذیل تجویز کر دی کہ مَیں اس مقدمہ کو انصاف کے لئے خدا تعالیٰ کی عدالت میں سپرد کرتاہوں۔جب یہ مسّودہ مولوی کریم دین کے پاس پیش کیا گیا تو اس نے منظور نہ کیا اور یہ عذر پیش کیا کہ مَیں قسم نہیں کھاتا۔حالانکہ عدالت میں بھی بیان اس کا حلفیہ ہو چکا تھا اور جب اس کے حلفیہ بیان کی مصدقہ نقل دکھلا کر اس کو کہا گیا کہ تم نے جب عدالت میں رو بروئے رائے چندولعل صاحب مجسٹریٹ حلفیہ بیان باقرار صالح دیا کہ نہ مَیں نے یہ خطوط لکھے ہیں اور نہ سراج الاخبار کے مضامین میرے ہیں تو پھر وہی حلفیہ بیان اب دینا ہے۔اس پر مولوی موصوف نے کہا کہ وہ ایک مجبوری تھی و اِلّا بلا ضرورت اشد قسم کھانا جائز نہیں اس لئے مَیں ۱؎ قسم نہیں کھاتا۔آخر یہ تجویز ہوا کہ بجائے خدا کی قسم کے اقرار صالح لکھا جاوے اس تجویز پر ذیل کا مسودہ تجویز کیا گیا کیونکہ پہلا بیان مولوی مذکور کا باقرار صالح تھا۔’’مَیں اقرار صالح سے سچ سچ اپنے ایمان سے خدا تعالیٰ کے حضو رمیں بیان کرتاہوں کہ خطوط محولہ مقدمہ جن سے مَیں نے انکار کیا ہے اور مضمون سراج الاخبار ۶؍ اکتوبر اور ۱۳ ؍ اکتوبر ۱۹۰۲ء جس سے مَیں انکاری ہوں۔درحقیقت وہ خطوط اور وہ مضامین ہرگز ہرگز میرے نہیں