مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 319 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 319

ہے آئندہ اگر ہماری زندگی میں ۲۷؍ دسمبر کی تاریخ آجاوے تو حتی الوسع تمام دوستوں کو محض للہ ربّانی باتوں کے سننے کیلئے اور دعا میں شریک ہونے کیلئے اس تاریخ پر آجانا چاہیے اور اس جلسہ میں ایسے حقایق اور معارف کے سنانے کا شغل رہے گا جو ایمان اور یقین اور معرفت کو ترقی دینے کیلئے ضروری ہیں اور نیز اُن دوستوں کیلئے خاص دعائیں اور خاص توجہ ہوگی اور حتی الوسع بدرگاہ ِارحم الراحمین کوشش کی جائے گی کہ خدائے تعالیٰ اپنی طرف ان کو کھینچے اور اپنے لئے قبول کرے اور پاک تبدیلی ان میں بخشے اور ایک عارضی فائدہ ان جلسوں میں یہ بھی ہوگا کہ ہر یک نئے سال میں جس قدر نئے بھائی اس جماعت میں داخل ہوں گے وہ تاریخ مقررہ پر حاضر ہو کر اپنے پہلے بھائیوں کے منہ دیکھ لیں گے اور روشناسی ہو کر آپس میں رشتہ تودّد و تعارف ترقی پذیر ہوتا رہے گا اور جو بھائی اس عرصہ میں اس سرائے فانی سے انتقال کر جائے گا اس جلسہ میں اس کیلئے دعائے مغفرت کی جائے گی اور تمام بھائیوں کو روحانی طور پر ایک کرنے کیلئے اوران کی خشکی اور اجنبیت اور نفاق کو درمیان سے اٹھا دینے کیلئے بدرگاہ حضرت عزت جَلَّ شَانُـہٗ کوشش کی جائے گی اور اس روحانی جلسہ میں اور بھی کئی روحانی فوائد اور منافع ہوں گے جو انشاء اللہ القدیر وقتاً فوقتاً ظاہر ہوتے رہیں گے اور کم مقدرت احباب کیلئے مناسب ہوگا کہ پہلے ہی سے اس جلسہ میں حاضر ہونے کا فکر رکھیں۔اور اگر تدبیر اور قناعت شعاری سے کچھ تھوڑا تھوڑا سرمایہ خرچ سفر کیلئے ہر روز یا ماہ بماہ جمع کرتے جائیں اور الگ رکھتے جائیں تو بلادقت سرمایہ سفر میسر آجاوے گا گویا یہ سفر مفت میسر ہوجائے گا اور بہتر ہوگا کہ جو صاحب احباب میں سے اس تجویز کو منظور کریں وہ مجھ کو ابھی بذریعہ اپنی تحریر خاص کے اطلاع دیں تاکہ ایک علیحدہ فہرست میں ان تمام احباب کے نام محفوظ رہیں کہ جو حتی الوسع والطاقت تاریخ مقررہ پر حاضر ہونے کیلئے اپنی آئندہ زندگی کیلئے عہد کر لیں اور بدل و جان پختہ عزم سے حاضر ہو جایا کریں بجز ایسی صورت کے کہ ایسے موانع پیش آجائیں جن میں سفر کرنا اپنی حدِّ اختیار سے باہر ہوجائے۔اور اب جو ۲۷؍ دسمبر ۱۸۹۱ء کو دینی مشورہ کے لئے جلسہ کیا گیا۔اِس جلسہ پر جس قدر احباب محض لِلّٰہ تکلیف سفر اٹھا کر حاضر ہوئے خدا ان کو جزائے خیر بخشے اور ان کے ہریک قدم کا ثواب ان کو عطا فرماوے۔آمین ثم آمین