مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 274
کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہو گئی۔اٰمَنْتُ بِاللّٰہِ وَ مَلَا ئِکَتِہٖ وَ کُتُبِہٖ وَ رُسُلِہٖ وَ الْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَ اٰمَنْتُ بِکِتَابِ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ الْقُرْاٰنِ الْکَرِیْمِ۔وَ اتَّبَعْتُ اَفْضَلَ رُسُلِ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ اَنْبِیَآئِ اللّٰہِ مُحَمَّدَ انِ الْمُصْطَفٰی وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔وَ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُـہٗ۔رَبِّ احْیِنِیْ مُسْلِمًا وَ تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَ احْشُرْنِیْ فِیْ عِبَادِکَ الْمُسْلِمِیْنَ۔وَ اَنْتَ تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَ لَا یَعْلَمُ غَیْرُکَ وَ اَنْتَ خَیْرُ الشَّاہِدِیْنَ۔اس میری تحریر پر ہر ایک شخص گواہ رہے اور خداوند علیم و سمیع اوّل الشاہدین ہے کہ میں ان تمام عقائد کو مانتا ہوں جن کے ماننے کے بعد ایک کافر بھی مسلمان تسلیم کیا جاتا ہے اور جن پر ایمان لانے سے ایک غیر مذہب کا آدمی بھی معاً مسلمان کہلانے لگتا ہے۔میں ان تمام امور پر ایمان رکھتا ہوں جو قرآن کریم اور احادیث صحیحہ میں درج ہیں اور مجھے مسیح ابن مریم ہونے کا دعویٰ نہیں اور نہ میں ناسخ کا قائل ہوں بلکہ مجھے تو فقط مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ ہے۔جس طرح محدثیت نبوت سے مشابہ ہے ایسا ہی میری رُوحانی حالت مسیح ابن مریم کی رُوحانی حالت سے اشد درجہ کی مناسبت رکھتی ہے۔غرض میں ایک مسلمان ہوں۔اَیُّہَا الْمُسْلِمُوْنَ اَنَا مِنْکُمْ وَ اِمَامُکُمْ مِنْکُمْ بِاَمْرِ اللّٰہِ تَعَالٰی خلاصہ کلام یہ کہ مَیں محدث اللہ ہوں اور مامور من اللہ ہوں اور باایںہمہ مسلمانوں میں سے ایک مسلمان ہوں جو صدی چار دہم کے لیے مسیح ابن مریم کی خصلت اور رنگ میں مجدّدِ دین ہو کر رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ کی طرف سے آیا ہوں۔مَیں مفتری نہیں ہوں۔۔خدا تعالیٰ نے دنیا پر نظر کی اور اس کو ظلمت میں پایا اور مصلحت عباد کے لیے ایک اپنے عاجز بندہ کو خاص کر دیا۔کیا تمہیں اس سے کچھ تعجب ہے کہ وعدہ کے موافق صدی کے سر پر ایک مجدّد بھیجا گیا؟ اور جس نبی کے رنگ میں چاہا خدا تعالیٰ نے اس کو پیدا کیا۔کیا ضرور نہ تھا کہ مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی پوری ہوتی؟ بھائیو! میں مُصلح ہوں بدعتی نہیں۔اور معاذ اللہ میںکسی بد عت کے پھیلانے کے لیے نہیں آیا۔حق کے اظہار کے لیے آیا ہوں