مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 239 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 239

اس لئے مَیں نہیں چاہتا کہ اب ان کا کسی قسم کا تعلق مجھ سے باقی رہے۔اور ڈرتا ہوں کہ ایسے دینی دشمنوں سے پیوند رکھنے میں معصیت نہ ہو۔لہٰذا مَیں آج کی تاریخ کہ دوسری مئی ۹۱ ء ہے۔عوام اور خواص پر بذریعہ اشتہار ھٰذا ظاہر کرتا ہوں کہ اگر یہ لوگ اس ارادہ سے باز نہ آئے۔اور وہ تجویز جو اس لڑکی کے ناطہ اور نکاح کرنے کی اپنے ہاتھ سے یہ لوگ کر رہے ہیں اس کو موقوف نہ کر دیا۔اور جس شخص کو انہوں نکاح کے لئے تجویز کیا ہے اس کو ردّ نہ کیا بلکہ اسی شخص کے ساتھ نکاح ہو گیا تو اسی نکاح کے دن سے سلطان احمد عاق اور محروم الارث ہو گا اور اسی روز سے اس کی والدہ پر میری طرف سے طلاق ہے۔اور اگر اس کابھائی فضل احمد جس کے گھر میں مرزا احمد بیگ والد لڑکی کی بھانجی ہے اپنی اس بیوی کو اسی دن جو اس کو نکاح کی خبر ہو اور طلاق نہ دیوے تو پھر وہ بھی عاق اور محروم الارث ہو گا۔اور آئندہ ان سب کا کوئی حق میرے پر نہیں رہے گا۔اور اس نکاح کے بعد تمام تعلقات خویشی و قرابت و ہمدردی دور ہو جائے گی۔اور کسی نیکی۔بدی۔رنج۔راحت، شادی اور ماتم میں ان سے شراکت نہیں رہے گی کیونکہ انہوںنے آپ تعلق توڑ دیئے اور توڑنے پر راضی ہو گئے۔سو اب ان سے کچھ تعلق رکھنا قطعاً حرام اور ایمانی غیوری کے برخلاف اور ایک دیّوثی کا کام ہے۔مومن دیّوث نہیں ہوتا۔چوں نہ بود خویش را دیانت و تقویٰ قطع رحم بہ از مُوَدّتِ قربیٰ ۱؎ وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی المشــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــتھر مرزا غلام احمد لودیانہ ۲؍ مئی ۱۸۹۱ء حقانی پریس لودیانہ (تبلیغ رسالت جلد ۲ صفحہ ۹ تا ۱۱) ۱؎ ترجمہ۔جب اپنوں میں دیانت اور پرہیز گاری نہ رہے، تو محبت اور یگانگت کی بجائے تعلقات توڑ لینا بہتر