مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 190
تحریرات کا کوئی کافی و قانونی ثبوت بھی ہے یا ناحق بار بار اپنے نفسِ امّارہ کے جذبات لوگوں پر ظاہر کر رہے ہیں اور اس جگہ بعض نادان مسلمانوں کی حالت پر بھی تعجب ہے کہ وہ کس خیال پر وساوس کے دریا میں ڈوبے جاتے ہیں۔کیا کوئی اشتہار ہمارا اُن کے پاس ہے کہ جو اُن کو یقین دلاتا ہے کہ ہم اس لڑکے کی نسبت الہامی طور پر قطع کر چکے تھے کہ یہی عمر پانے والا اور مصلح موعود ہے۔اگر کوئی ایسا اشتہارہے تو کیوں پیش نہیں کیا جاتا۔ہم اُن کو باور دلاتے ہیں کہ ایسا اشتہار ہم نے کوئی شائع نہیں کیا۔ہاں خدا تعالیٰ نے بعض الہامات میں یہ ہم پر ظاہر کیا تھا کہ یہ لڑکا جو فوت ہو گیا ہے ذاتی استعدادوں میں اعلیٰ درجہ کا ہے اور دنیوی جذبات بکلّی اس کی فطرت سے مسلوب اور دین کی چمک اس میں بھری ہوئی ہے اور روشن فطرت اور عالی گوہر اور صدیقی رُوح اپنے اندر رکھتا ہے اور اس کا نام بارانِ رحمت اور مبشر اور بشیر اور یَدُ اللّٰہِ بِجَلَالٍ وَجَمَالٍ وغیرہ اسماء بھی ہیں۔سو جو کچھ خدا تعالیٰ نے اپنے الہامات کے ذریعہ سے اُس کی صفات ظاہر کیں یہ سب اُس کی صفائی استعداد کے متعلق ہیں جن کے لئے ظہور فی الخارج کوئی ضروری امر نہیں۔اس عاجز کا مدلل اور معقول طور پر یہ دعویٰ ہے کہ جو بنی آدم کے بچّے طرح طرح کی قوّتیں لے کر اِس مسافر خانہ میں آتے ہیں خواہ وہ بڑی عمر تک پہنچ جائیں اور خواہ وہ خورد سالی میں ہی فوت ہو جائیں اپنی فطرتی استعدادات میں ضرور باہم متفاوت ہوتے ہیں اور صاف طور پر امتیاز بیّن ان کی قوّتوں اور خصلتوں اور شکلوں اور ذہنوں میں دکھائی دیتا ہے جیسا کہ کسی مدرسہ میں اکثر لوگوں نے بعض بچے ایسے دیکھے ہوں گے جو نہایت ذہین اور فہیم اور تیزطبع اور زود فہم ہیں اور علم کو ایسی جلدی سے حاصل کرتے ہیں کہ گویا جلدی سے ایک صف لپیٹتے جاتے ہیں لیکن اُن کی عمر وفا نہیں کرتی اور چھوٹی عمر میں ہی مَر جاتے ہیں اور بعض ایسے ہیں کہ نہایت غبی اور بلید اور انسانیت کا بہت کم حصّہ اپنے اندر رکھتے ہیں اور مُنہ سے رال ٹپکتی ہے اور وحشی سے ہوتے ہیں اور بہت سے بوڑھے اور پِیر فرتوت ہو کر مَرتے ہیں اور بباعث سخت نالیاقتی فطرت کے جیسے آئے ویسے ہی جاتے ہیں غرض ہمیشہ اس کا نمونہ ہر ایک شخص اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے کہ بعض بچے ایسے کامل الخِلقت ہوتے ہیں کہ صدیقوں کی پاکیزگی اور فلاسفروں کی دماغی طاقتیں اور عارفوں کی روشن