مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 167
نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ اکیس ۲۱ مئی ۱۸۸۸ء کے جلسہ مذہبی کی کیفیت اور پادری وایٹ بریخٹ صاحب پر اتمامِ حجت جن صاحبوں نے ہمارا اعلان مجریہ ۱۸؍ مئی ۱۸۸۸ء دیکھا ہے۔انہیں معلوم ہو گا کہ فتح مسیح عیسائی واعظ نے دعویٰ کیا تھا کہ مجھے بھی الہام ہوتا ہے اور میں بھی پیش از وقوع الہامی پیشگوئیاں بالمقابل بتلا سکتا ہوں چنانچہ اس دعویٰ کے پرکھنے کے لیے ۲۱؍ مئی ۱۸۸۸ء بروز دو شنبہ اس عاجز کے مکان فرودگاہ پر ایک بھارا جلسہ ہوا اور بہت سے مسلمان اور ہندو معزز اور رئیس شہر کے رونق افروز جلسہ ہوئے اور سب کو اس بات کے دیکھنے کا شوق تھا کہ کونسی پیشگوئیاں بالمقابل پیش کی جاتی ہیں۔آخر دس۱۰بجے کے بعد میاں فتح مسیح معہ چند دوسرے عیسائیوں کے جلسہ میں تشریف لائے اور بجائے اس کے کہ پیشگوئیاں پیش کرتے اور اور باتیں کہ جو سراسر واہیات اور خارج از مقصد تھیں شروع کر دیں۔آخر حاضرین میں سے ایک معزز ہندو صاحب نے انہیں کہا کہ یہ جلسہ صرف بالمقابل پیشگوئیاں کے پیش کرنے کے لیے انعقاد پایا ہے۔اور یہی آپ کا اقرار بھی ہے اور ایسے شوق سے سب لوگ اکٹھے ہوئے ہیں۔سو اس وقت الہامی پیشگوئیاں پیش کرنی چاہییں۔اس کے جواب میں میاں فتح مسیح نے