ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 395 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 395

ناپسند ہے۔اور پھر عشاء کی نماز کے بعد ٹریں مارنا نا پسند ہے۔صرف ۹ بجے تک آپ کی نماز کا وقت تھا۔فجر کی نماز منافق کا کام نہیں کہ وقت پر پڑھے۔اللہ کی حمد سے نماز پڑھنی چاہیے طلوع شمس سے پہلے اور غروب شمس سے پہلے۔جاہل لوگ بڑی جلدی سحر کیا کرتے ہیں۔جمعہ اور ظہر فرمایا۔اگر جمعہ کی نماز میں ایک رکعت ملے تو دوسری ایک رکعت پڑھ لے تو جمعہ ہوجاتا ہے۔اگر سجدہ یا رکوع میں ملے تو پھر وہ جمعہ نہیں ہوتاوہ ظہر ہوجاتی ہے۔ظہر پوری کرے۔کن وقتوں میں نماز نہ پڑھے فرمایا۔اگر سورج غروب ہورہا ہو تو نماز نہ پڑھے بعدہ پڑھے اور نہ ہی چڑھتے نماز پڑھے۔بعض لوگ عصر کے بعد دو سنتیں کہتے تھے یہ ٹھیک نہیں۔بادل کا دن ہو تو عصر کو سویرے پڑھ لینا چاہیے ورنہ رہ جاتی ہے یا دھوکا پڑ جاتا ہے۔جو نماز رہ جاوے اس کے لئے جماعت کرنا اذان کہنا جائز ہے۔۲۱ ؍ اپریل ۱۹۱۳ء بروزدو شنبہ سورۃ نمل سورۃ نمل میں مکہ معظمہ کے باشندوں کے لئے بتایا کہ اب تم تباہ ہوجاؤ گے۔نہ کوئی تم میں سے کامیاب ہوا اور نہ کوئی نبی کریم کا مقابلہ کرے گا۔پھر شام کے ملک کی طرف متوجہ کیا ان پر بھی مکہ والوں کی طرح اتمام حجت کی کہ اب تم ہلاک ہوجاؤ گے۔(اخبار نور جلد ۵ نمبر ۲۴ مورخہ ۳؍اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ ۱۱) انجمن اور خلیفہ کی بحث اور خلیفۃ المسیح کا فیصلہ آئندہ خلیفہ کے متعلق بحث ان سوالات کے جواب دیتے ہوئے بعض بزرگوں نے کہا کہ آپ تو مستثنیٰ ہیں بحث آئندہ خلیفہ کے متعلق ہے اس پر فرمایا۔یہاں قوت ایمانیہ روکتی ہے کہ موجودہ خلیفہ اچھا ہے یہ مستثنیٰ ہے اس کے متعلق بحث نہیں کرتے پھر آگے جانے کی کیا ضرورت تھی ؟ پھر بحث اسی لئے ہے جو آئندہ ہو۔آئندہ پیدا ہونے والا تو شائد لاکھ گنا بہتر ہوگا۔