ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 384
دعائیں وہ سنتا ہے اور قبول کرتا ہے۔فرمایا۔میں اس وقت رویا ہوں۔اگر میری غضب کی آنکھ ہوتی تو کھا جاتی۔پھر اسی سلسلہ میں فرمایا۔وہ میری دعائیں سنتا ہے۔اب میں بیمار ہوں۔پھر ڈاکٹر برادرم یعقوب بیگ صاحب کو مخاطب کرکے فرمایا۔آپ اس کو لائے۔آپ نے اس کی معافی کرائی لیکن آج تک اس کی تلافی نہیں ہوئی۔قرآن مجید فرماتا ہے ۔۔۔۔۔(المائدۃ:۴۰)(الشورٰی:۴۱)مگر اس نے کوئی اصلاح نہیں کی کوئی تلافی نہیں ہوئی۔نہ آپ نے اصلاح کرائی نہ تلافی کرائی؟ خلافت فرمایا۔وہ جو کہتا ہے کہ فلاں شخص کو میں نے خلیفہ مقرر کردیا ہے غلط ہے۔مجھے کیا علم ہے کہ کون خلیفہ ہوگا۔مجھے کیا علم ہے کہ دو دن کے بعد کون خلیفہ ہوگا اور کیا ہوگا۔کون خلیفہ بنے گا یا مجھ سے بہتر خلیفہ ہوگا۔میں نے کسی کو خلیفہ نہیں بنایا۔میں کسی کو خلیفہ نہیں بناتا۔میرا یہ کام نہیں۔خلیفہ بنانا خدا کا کام ہے۔جس کو وہ چاہتا ہے وہ خلیفہ بناتا ہے۔فرمایا۔میں اس وقت رویا ہوں۔رضا بالقضا فرمایا۔میں ہر طرح سے خدا تعالیٰ کی رضا پر راضی ہوں۔نفس کی کوئی خواہش باقی نہیں رہی۔۱۹؍ فروری کی صبح کو حضرت ام المؤمنین، آپ کی بی بی اور بعض دیگر مستورات عیادت کو حاضر ہوئیں۔آپ کچھ چشم پُر آب ہوگئے۔آپ کی بی بی صاحبہ نے عرض کیا کہ کیا آپ گھبرا گئے ؟ فرمایا۔گھبرا کیسا ؟ میں بالکل نہیں گھبرایا۔فرمایا۔وہ خدا راضی ہوجائے سب کچھ پالیا۔پھر آپ نے فرمایا۔یہ ایک علم ہے جاہلوںکو معلوم نہیں۔بیوی صاحبہ نے پوچھا کیا علم ہے؟ فرمایا۔اللہ کولوں ڈرنا (اللہ سے ڈرنا)۔پھر فرمایا۔میں کبھی نہیں گھبراتا۔مجھے کوئی تکلیف نہیں معلوم ہوتی۔چپ اس لئے ہوں کہ بولنے سے تکلیف ہوتی ہے۔(ماخوذ از ایوان خلافت۔الحکم جلد۱۸ نمبر۱مورخہ ۲۸ ؍ فروری ۱۹۱۴ء صفحہ۶،۷ )