ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 372 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 372

جیسے بدظنی پھیلانے والے ٹریکٹوں کے اشاعت کے جلسہ پر لوگ معمول سے زیادہ آئے۔اور ان کے چہروں سے وہ محبت اور اخلاص ٹپک رہا تھا جو بزبان حال اس بات کی شہادت دے رہا تھا کہ جماعت احمدیہ ہر ایک بداثر سے محفوظ اور مصئون ہے۔علاوہ ازیںمختلف جماعتوں نے ایثار کا بھی اس دفعہ وہ نمونہ دکھایا کہ اس سے اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ثابت ہوتا تھا۔باوجود اس کے کہ اس سال چندوں کا خاص بوجھ تھا اور صدر انجمن مقروض ہوگئی تھی۔مختلف جماعتوں نے نہایت خوشی اور رضا و رغبت سے وہ سب قرضہ ادا کردینے کا وعدہ کیا اور بہت سا روپیہ نقد بھی دیا۔حتی کہ پچھلے تمام سالوں کی نسبت اب کی دفعہ تگنے روپیہ کے وعدے اور وصولی ہوئی جس کی مجموعی تعداد اٹھارہ ہزار کے قریب ہے جو اس قلیل جماعت کی حالت کو دیکھتے ہوئے ایک خاص فضل الٰہی معلوم ہوتا ہے۔اس جلسہ نے ان لوگوں کے خیالات کو بھی باطل کردیا جو کہتے تھے کہ نورالدین گھوڑے سے گر گیا ہے۔جب ایک دفعہ خلافت کے خلاف شور ہوا تھا تو مجھے اللہ تعالیٰ نے رؤیا میںدکھایا تھا کہ میںایک گھوڑے پر سوار ہوں اور ایسی جگہ پر جار ہا ہوں جہاں بالکل گھانس پھونس نہیں ہے اور خشک زمین ہے۔پھر میں نے گھوڑے کو دوڑانا شروع کیا اور گھوڑا ایسا تیز ہوگیا کہ ہاتھوں سے نکلا جارہا تھا۔مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے میری رانیں نہ ہلیں اور مَیں یا یہ کہوں نہایت مضبوطی سے گھوڑے پر بیٹھا رہا۔دور جا کر گھوڑا ایک سبزہ زار میدان میں داخل ہوگیا جس میں قریباً نصف نصف گز سبزہ اُگا ہوا تھا۔اس میدان میں جہاں تک نظر جاتی تھی سبزہ ہی سبزہ نظر آتا تھا۔گھوڑے نے تیزی کے ساتھ اس میدان میں بھی دوڑنا شروع کیا۔جب میں درمیان میں پہنچا تو میری آنکھ کھل گئی۔میں نے اس خواب سے سمجھا کہ وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ یہ خلافت کے گھوڑے سے گر جائے گا جھوٹے ہیں اور اللہ تعالیٰ مجھے اس پر قائم رکھے گا بلکہ کامیابی عطا فرمائے گا۔سو خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے میری اس خواب کو بھی پورا کیا اور اس سال کے جلسہ نے اس کی صداقت بھی ظاہر کردی کہ باوجود لوگوں کی کوششوں اور